صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 197 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 197

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۹۷ ۶۵ - کتاب التفسير / النساء کرو تو اگر تم اللہ اور پیچھے آنے والے دن پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو ( اور ان کے حکم کی روشنی میں معاملہ طے کرو) یہ (بات) بہتر اور انجام کے لحاظ سے زیادہ اچھی ہے۔اس آیت سے متعلق اختلاف ہے کہ آیا جب حکومت غیر اسلامی ہو تو حکام أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ میں شامل ہیں یا نہیں۔روایت نمبر ۴۵۸۴ سے ظاہر ہے کہ اس آیت کا نزول مسلمانوں سے مختص ہے اور آیت میں مومن مخاطب ہیں جن پر اللہ اور رسول اور اُولِي الْأَمْرِ مِنكُم واجب الاطاعت قرار دئے گئے ہیں۔اور اس سے ما قبل آیت میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ حکومت کے لئے جو ایک قومی امانت ہے اہلیت رکھنے والے قابل حکام کا انتخاب کرو۔ان کے انتخاب میں رعایت اور جانب داری سے کام نہ لو اور منتخب حکام کو ارشاد ہے کہ عدل و انصاف مد نظر رہے۔ایسے ہی حکام در حقیقت اولی الامیر کے مصداق ہو سکتے ہیں۔سیاق و سباق کلام واضح ہے اور حدیث مندرجہ بالا اس کی مؤید ہے۔قوم کا غائیہ کمال اور مقصود اعلیٰ یہی ہے کہ وہ آزاد اور اپنے آپ کی خود حکمران ہو نہ کہ محکوم۔اسی نقطہ نظر کے پیش نظر بین ارشاد ہے اور جب کوئی قوم محکوم ہو اور حاکم غیر قوم تو اس کے لئے الگ احکام ہیں۔مذکورہ بالا حکم جو مثبت ہے ، اس سے عدل و انصاف پسند غیر مسلم حکام کے بارے میں نفی اطاعت لازم نہیں آتی۔جیسا کہ صحابہ کرام نے عیسائی حاکم نجاشی کی طرف ہجرت کی اور اس کی ماتحتی قبول کی۔علاوہ ازیں جو روایت زیر باب منقول ہے اس کا تعلق سریہ حضرت عبد اللہ بن حذافہ بن قیس سے ہے۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب المغازی، باب ۵۹ روایت نمبر ۴۳۴۰۔واقعہ مذکور سے ظاہر ہے کہ اطاعت فی المعروف ہے اور اگر اولو الامر کے حکم سے متعلق اختلاف ہو تو جائز ناجائز کا فیصلہ کرنے میں احکام الہیہ وارشادات نبویہ کی طرف رجوع کرنے کا ارشاد ہے۔آیت فَإِن تَنَازَعْتُم میں امراء اور ان کے ماتحت دونوں مخاطب ہیں۔لفظ نزلٹ سے تطبیق آیت مراد ہے۔چنانچہ طبری کی ایک روایت میں اس کا نزول حضرت عمار بن یا سٹر اور حضرت خالد بن ولید کے واقعہ سے متعلق بتایا گیا ہے۔اول الذکر نے ایک شخص کو پناہ دی اور ثانی الذکر نے جو امیر تھے ان کا پناہ دینا جائز نہیں سمجھا۔۔اس تعلق میں اولوالامر کے مفہوم کی نسبت اختلاف ہوا ہے۔حضرت ابو ہریرہ کی روایت میں ہے کہ اس سے مراد امراء ہیں۔یہ روایت طبری نے صحیح سند سے نقل کی ہے اور حضرت جابر بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ اس سے صالح علماء مراد ہیں۔مجاہد وغیرہ سے بھی یہی منقول ہے اور ایک اور زیادہ مضبوط سند سے ان کا یہ قول بھی مروی ہے کہ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُم سے مراد صحابہ کرام ہیں۔امام شافعی نے پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔علامہ ابن حجر نے لکھا ہے: وَاخْتَارَ الطَّبَرِيُّ حَمْلَهَا عَلَى الْعُمُومِ وَإِن نَزَلَتْ فِي سَبَبٍ خَاصٌ - طبری نے اولوالامر سے عام امراء مراد لئے ہیں۔خواہ اس کا نزول کسی خاص واقعہ کی وجہ سے ہوا ہو۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۳۲۰) (جامع البيان للطبری، سورة النساء، آیت يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ ، جزءے صفحہ ۱۷۸)