انوارالعلوم (جلد 9) — Page 629
انوار العلوم جلد 9 ۶۲۹ فیصلہ در تمان کے بعد مسلمانوں کا اہم فرض شکوہ کا کیا حق پہنچتا ہے؟ جبکہ ہم خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت سے غافل ہیں۔ مسیحی ایک انسان کو خدا منوانے کے لئے ہزاروں میل کا سفر کرتے ہیں اور جانوں کو خطرہ میں ڈال کر اور کروڑوں روپیہ سالانہ خرچ کر کے اپنے مذہب کی تلقین کرتے پھرتے ہیں۔ ہندو جو اب تک اپنے مذہب کی تعریف بھی نہیں کر سکے اور جن کے فرقوں کا باہمی اختلاف اس سے بھی بڑھا ہوا ہے جتنا کہ ان کے بعض فرقوں اور اسلام یا مسیحیت میں ہے۔ لاکھوں روپے خرچ کر کے ہر صوبہ میں پرچار کر رہے ہیں اور شدھی کی رو چل رہی ہے۔ لیکن اے مسلمان کہلانے والو! جن کے نبی کی زبان پر خدا تعالی نے خود یہ الفاظ جاری کئے کہ يَا يُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ۔ اے تمام بنی نوع انسان! میں اللہ کی جانب سے تم سب کی طرف پیغام ہدایت دے کر بھیجا گیا ہوں۔ اور جن کی اپنی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ - تم سب سے بہتر امت ہو کہ جن کو تمام بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے تم نیکی کو دنیا میں پھیلاتے ہو اور بدی سے لوگوں کو باز رکھتے ہو ۔ تم بتاؤ کہ تم نے نور اسلام اور پیغام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اشاعت کے لئے کیا کیا؟ اگر آپ لوگ اپنے فرض کو ادا کرتے تو آج و تو آج دنیا میں رسول کریم اور اسلام پر حملہ کرنے والا کوئی نظر نہ آتا۔ دنیا پر اسلام کی حکومت ہوتی اور تمام دل نگین محمد سے منقش ہوتے۔ بجائے گالیوں کے اس مقدس ہستی پر درود بھیجا جاتا۔ اگر آپ لوگوں کو اشاعت اسلام اور شریعت کے قیام کے لئے قربانی کرنے کی جرات نہیں تو پھر دوسروں کی حرکات کا گلہ کیا۔ اور گورنمنٹ کی مدد سے رسول کریم کی عزت کی حفاظت پر فخر کیسا۔ کیا آپ لوگوں میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ پہلے اسے زہر دیا جائے اور پھر علاج کر کے اسے بچالیا جائے۔ وہ ڈوب جائے اور پھر لوگ اسے نکال لیں۔ یا اس کا مال چور لے۔ چور لے جائیں اور پھر پولیس اس مال کو برآمد کر دے۔ اگر آپ اسے پسند نہیں کرتے بلکہ یہ پسند کرتے ہیں کہ آپ کو زہر دیا ہی نہ جائے اور آپ سلامتی سے سمندر کے کنارے پر کھڑے رہیں۔ یا تختہ جہاز پر امن سے بیٹھے ہوں۔ اور آپ کا مال گھروں میں محفوظ رہے اور کوئی اسے ہاتھ نہ لگائے۔ تو بخدا یہ بتائیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آپ اس امر پر کیوں خوش ہوتے ہیں کہ پہلے لوگ انہیں گالیاں دیں اور پھر جیل خانوں میں چلے جائیں۔ کیوں یہ کوشش نہیں کرتے کہ لوگ انہیں گالیاں ہی نہ دیں۔ اور یہ کام بغیر اشاعت اسلام اور اصلاح نفس کے ہو ہی نہیں سکتا۔ پس اٹھو اور ہوئے