انوارالعلوم (جلد 9) — Page 628
انوار العلوم جلد 9 ۶۲۸ فیصلہ ورتمان کے بعد مسلمانوں کا اہم فرض میں اپنے نفس سے شرمندہ ہوں کہ اگر یہ دو شخص جو ایک قسم کی موت کا شکار ہوئے ہیں۔ اور بد بختی کی مہر انہوں نے اپنے ماتھوں پر لگالی - پر لگالی ہے اس صداقت پر اطلاع پاتے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوئی تھی تو کیوں گالیاں دے کر برباد ہوتے۔ کیوں اس کے زندگی بخش جام کو پی کر ابدی زندگی نہ پاتے اور اس صداقت کا ان تک نہ پہنچنا مسلمانوں کا قصور نہیں تو اور کس کا ہے؟ پس میں اپنے آقا سے شرمندہ ہوں کیونکہ اسلام کے خلاف موجودہ شورش در حقیقت مسلمانوں کی تبلیغی سستی کا نتیجہ ہے۔ قانون ظاہری فتنہ کا علاج کرتا ہے نہ دل کا اور میرے لئے اس وقت تک خوشی نہیں جب تک کہ تمام دنیا کے دلوں سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بغض نکل کر اس کی جگہ آپ کی محبت قائم نہ : انہ ہو جائے۔ لوگوں کے مونہوں پر مہر لگانے سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ یہ تو صرف ہمارے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ محمد رسول اللہ کی عزت تو اس میں ہے کہ دل اس کی محبت کے جذبات سے پر ہوں اور آنکھیں اس کے فراق میں نمناک اور زبانیں اس کی تعریف میں گویا۔ اگر سیر دوزخ کا مضمون لکھنے والا اور اس کے چھاپنے والا دونوں قید ہو گئے ہیں تو اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ ہمارے جذبات کو جو پہنچا تھا اس کا بدلہ لے لیا گیا ہے۔ لیکن مسلمان کہلانے والے! اس بات کو مت بھول کہ جو کچھ ان دونوں نے لکھا اور شائع کیا ہے وہ کروڑوں آدمیوں کے دلوں میں ہے اور جب تک اس کو مٹایا نہ جائے اس وقت تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فِدَاهُ أَبِی وَ أُمِّی کی عزت قائم نہیں ہو سکتی۔ پس تو خوش نہ ہو کہ اگر تو سچا مؤمن ہے تو تیری خوشی اپنے انتقام میں نہیں۔ بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقام میں ہے۔ اور وہ انتقام یہ ہے کہ تو اس وقت تک سانس نہ لے کہ جب تک دنیا میں ایک بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر باقی ہے۔ تو اس پر خوش نہ ہو کہ تو نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت میں دنیا کو مار دیا بلکہ اس پر خوش ہو کہ تو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں دنیا کو زندہ کر دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بخش آواز کو بعید ترین حصص دنیا میں پہنچا دیا۔ آہ! ہم کس بات پر خوش ہیں ؟ کیا اس بات پر کہ انگریزی حکومت نے جو مذہباً عیسائی ہے ہزاروں روپیہ خرچ کر کے اور بیسیوں آدمی مقرر کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کی اور اس بات کا ہمیں خیال بھی نہیں آتا کہ اس عزت کی حفاظت کے لئے ہم نے کچھ بھی نہیں کیا اور نہ کچھ کرنے کی فکر ہے۔ ہمیں دوسروں کے کئے پر کیا خوشی ہو سکتی ہے؟ اور ان کی غفلت پر جو صدمہ اے