انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 573 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 573

انوار العلوم جلد 9 ۵۷۳ رسول کریم کی عزت کا تحفظ اور ہمارا فرض چھوت چھات کرتے ہیں۔ اسی طرح یہ کہ وہ اپنی تمدنی اور اقتصادی زندگی کے لئے پوری سعی کریں گے، اپنے قومی حقوق کو قوانین حکومت کے ماتحت حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں گے، اسلامی فوائد میں سب ملکر کام کریں گے اور اسی دن ہر مقام پر ایک مشترکہ انجمن بنائی جائے جو مشترکہ فوائد کے کام کو اپنے ہاتھ میں لے۔ اسی طرح اس دن تمام لوگ مل کر گورنمنٹ سے درخواست کریں کہ ہائی کورٹ کی موجودہ صورت مسلمانوں کے مفاد کے خلاف ہے اور ان کی ہتک کا موجب پچپن فی صدی آبادی والی قوم کے گل دو حج ہیں اور ان میں سے ایک سروس سے لیا ہوا اور ایک صوبہری سے باہر سے لایا ہوا۔ اس میں مسلمان اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں۔ یہ سمجھنا کہ ہر شعبہ کے لئے مسلمین قابل سے قابل مل سکتے ہیں لیکن حج نہیں مل سکتا ہماری سمجھ سے باہر ۔ گورنمنٹ نے جو کچھ کیا انصاف ہی سے کیا ہو گا مگر ہمارے نزدیک اس معاملہ میں مسلمانوں کے حقوق پر کافی غور نہیں کیا گیا، اور اس کا ازالہ جلد سے جلد ضروری ہے اور اس کے لئے ہم با ادب یہ درخواست کرتے ہیں کہ ہم سے کم ایک مسلمان حج پنجاب کے بیرسٹروں میں سے اور مقرر کیا جائے اور اسے نہ صرف مستقل کیا جائے بلکہ دوسرے ججوں سے اس طرح سینئر کیا جائے کہ سر شادی لال صاحب کے بعد وہی چیف حج ہوا ہے۔ ایک محضر کی ضرورت اسی طرح ایک جلسہ میں حاضرین سے دستخط لے کر ایک محضر نامہ تیار کیا جائے کہ ہمارے نزدیک مسلم آؤٹ لک کے ایڈیٹر اور مالک نے ہرگز عدالت عالیہ کی ہتک نہیں کی بلکہ جائز نکتہ چینی کی ہے جو موجودہ حالات میں ہمارے نزدیک طبعی تھی اس لئے ان کو آزاد کیا جائے اور جلد سے جلد کنور دلیپ سنگھ صاحب کے فیصلہ کو مسترد کرا کے مسلمانوں کی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ادنی بے ادبی بھی برداشت نہیں کر سکتے دلجوئی کی جائے۔ کوشش یہ ہونی چاہئے کہ کم سے کم پانچ چھ لاکھ مرد و عورت کے دستخط یا انگوٹھے اس محضر نامہ پر ہوں تاکہ نہ صرف ہندوستان بلکہ اس کے باہر بھی اس کا اثر ہو۔ اور اس کا ایک طبعی اثر مسلمانوں کے دماغوں پر ایسا پڑے کہ دوسر ہے کہ دوسرے امور میں جدوجہد بھی ان کے لئے آسان ہو جائے۔ یہ محضر نامہ ابھی سے تیار ہونا شروع ہو جانا چاہئے۔ اس سے لوگوں کو کام کرنے کا موقع بھی مل جائے گا اور لوگوں پر اثر بھی اچھا ہو گا۔ میرے نزدیک ایک ماہ بعد کی تاریخ رکھنی اس لئے مناسب ہے کہ تا اس عرصہ میں تمام ملک کو اس غرض کے لئے بیدار کیا جا سکے۔ جلسہ جمعہ کی نماز کے بعد آسان ہو گا۔ لیکن جس جگہ قانوناً