انوارالعلوم (جلد 9) — Page 572
انوار العلوم جلد 8 ۵۷۲ رسول کریم کی عزت کا تحفظ اور ہمارا فرض ہم سب ملکر اس کی تائید کریں اور ایک زبان ہو کر سارے ہندوستان میں اس کی دھوم مچادیں۔ اور جن لوگوں سے ہمیں اختلاف بھی ہو گو ان کے خیالات کی ہم تردید کریں لیکن استہزاء سے کام نہ لیں اور تذلیل نہ کریں تا کوئی شخص بھی ہمارا ہاتھ سے جاتا نہ رہے۔ میں نے ان اغراض کو پورا کرنے کے اخبارات کو مضبوط کرنے کی ضرورت تکتے تھے چھ اضلاع میں مبلغ مقرر کئے ہیں اور باقی ضلعوں میں مقامی انجمنوں کے ذریعہ سے کام کروا رہا ہوں۔ ان لوگوں سے علاوہ چھوت جومات کی تحریک کرنے، تمدنی آزادی کی ترغیب دینے اور مل کر کام کرنے کی تحریص دلانے کے یہ بھی کام لیا جائے گا کہ تمام مسلم اخبارات کی اشاعت کی تحریک بھی وہ ہر جگہ کریں کیونکہ پریس کی مضبوح ، قوم کی آواز کے بلند کرنے کے لئے ضروری ہے۔ اس وقت تک مسلمانوں کی ترقی مشکل ہے جب تک کہ مسلمانوں کا پریس نہایت مضبوط نہ ہو۔ اور اسی طرح یہ تحریک بھی کرائی جائے گی کہ مسلمان از میندار اور تاجر اپنا کام مسلمان وکلاء کو دیا کریں تاکہ مسلمان وکلاء آزاد ہو کر کام کر سکیں۔ یہ پیشہ آزاد ہے مگر بوجہ کام کی کمی کے مسلمان وکلاء اس طرح کام نہیں کر سکتے جس طرح کہ ہندو وکلاء کر سکتے ہیں۔ عام اعلان کی ضرورت ان تمام تام کرنے کے لیے میرے نزدیک تمام اسلامی سوسائٹیوں، انجمنوں، اخباروں، رسالہ جات اور جماعتوں کی طرف سے سب سے پہلے یہ اعلان ہو جانا چاہئے کہ ہم اسلام کے عام فوائد کے معاملہ میں اپنے اختلافات سے قطع نظر کر کے آپس میں ملکر کام کیا کریں گے تاکہ عوام الناس میں بھی ادھر توجہ پیدا ہو جائے اور وہ سمجھ لیں کہ اب کام کرنے کا وقت آگیا ہے اور یکدم سب مقامات پر عملی جدوجہد شروع ہو جائے۔ ایک اہم جلسہ کی تجویز اس کا مناسب ذریعہ علاوہ اوپر کے اعلان کے جس کا مں اپنی سے تو وعده کر دیتا ہوں یہ بھی ہے کہ مسلم آوٹ لک کے ایڈیٹر اور مالک کے قید ہونے کے مثلاً پورے ایک ماہ بعد یعنی ۲۲۔ جولائی کو جمعہ کے دن ہر مقام پر ایک جلسہ کیا جائے جس میں مسلمانوں کی اقتصادی اور تمدنی آزادی کو کے متعلق مسلمانوں کو آگاہ کیا جائے اور سب سے وعدہ لیا جائے کہ وہ اپنے حلقہ میں تبلیغ اسلام کا کام جاری کریں گے۔ اور ہندوؤں سے ان امور میں چھوت چھات کریں گے جن میں ہندو اُن سے