انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 476

انوار العلوم جلد ؟ 24 ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل اس ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چار راجپوت اگنی کنڈ سے پیدا ہوئے اور انہوں نے ان کو تہ تیغ کیا۔ اول تو خواہ وہ اگنی کنڈ سے پیدا ہوئے یا آسمان سے گرے بہر حال انہوں نے بدھوں کو تہ تیغ کیا اور اب ا مذہب کا اس ملک سے نام و نشان بھی قریباً مٹ گیا ہے۔ لیکن دوسرا سوال یہ ہے کہ اگنی کنڈ سے چار راجپوت تو الگ رہے۔ ایک چوہا بھی پیدا نہیں ہو سکتا اگر ہو سکتا ہے تو آج ہند و صاحبان ایسا کر کے دکھا دیں۔ اصل بات یہ ہے کہ وہی باہر سے آنے والی چار قو میں جن کا نام و نشان اب مٹ گیا ہے انہیں لالچ دے کر کہ ان کو راجپوت کا درجہ دے دیا جاوے گا راجپوت بنا کر بدھوں کو تہ تیغ کرنے پر مقرر کی گئی ہیں اور اس ناجائز سمجھوتہ کا نام اگنی کنڈ رکھا گیا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ادھر بدھ اس ملک سے غائب ہوتے ہیں ادھر یہ باہر سے آئی ہوئی قو میں غائب ہو جاتی ہیں۔ پس صاف ثابت ہے کہ ستھین اور یونانی وغیرہ اقوام پر ہندوؤں نے جبر کیا یا لالچ دے کر ہندو بنا لیا۔ یہ ہے ان لوگوں کے جبر کا نمونہ۔ مگر نہ وہ لوگ موجو موجود ہیں جن پر جبر کیا گیا اور نہ ہی وہ جنہوں نے جبر کیا۔ وہ دونوں گزر گئے اب اگر ہم بھی ان کی طرح شور مچانا شروع کر دیں تو کیا آپ لوگ امید کر سکتے ہیں کہ امن قائم رہے گا۔ پس اگر ہندو امن پسند ہیں تو ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ امن اسی طرح ہو سکتا ہے کہ پچھلی باتوں کو چھوڑا جائے اور آئندہ کے لئے رواداری برتی جائے اور مساوات کا خیال رکھا جائے۔ اگر ایسا نہیں کر سکتے تو ملک میں امن بھی نہیں ہو سکتا پس اگر فی الواقع امن پیدا کرنا چاہتے ہیں تو رواداری قائم کریں اور مساوات برتیں۔ غلط طریق عمل اب تک یہ طریق رہا ہے کہ جس قوم کے فرد سے کوئی قصور ہوتا وہ قوم بجائے اس کے کہ قصور وار کو ملامت کرتی اور جس کا اس نے قصور کیا اس سے عذر خواہی ہوتی یہ کرتی ہے کہ مجرم کی تائید شروع کر دیتی ہے جس سے بجائے امن اور صلح کے فتنہ و فساد بڑھتا ہے کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ اگر قصور کرنے والے کی تائید کی جائے تو جس کا اس نے قصور کیا ہوتا ہے اس کا غصہ بھی تیز ہو جاتا ہے اور مجرم بھی دلیر ہو جاتا ہے اور دوسروں کو بھی اسی قسم کے افعال کرنے کی جرات کرنے کی جرات پیدا ہو جاتی ہے۔ غرض اس و اس وقت تک یہی ہوتا رہا ہے کہ مسلمانون کا کوئی آدمی اگر قصور وار ہوتا تو مسلمان اس کی تائید میں شور مچا دیتے اور ہندوؤں کا کوئی آدمی قصور کرتا تو ہندو اس کی حمایت میں کھڑے ہو جاتے۔ یہی وجہ ہے فساد بڑھتا گیا اور امن قائم نہ ہو سکا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک ترقی کرنے سے رک گیا مگر اب یہ حالت نہیں رہی۔ میں ہندوؤں کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے بھی اپنی حالت میں تبدیلی پیدا کی۔