انوارالعلوم (جلد 9) — Page 474
انوار العلوم جلد 9 ہندو مسلم فسادات، ان کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل کہ یہ مذہب جبرو تشدد کے برخلاف صلح و آشتی کا حامی ہو گا کیونکہ لفظ اسلام کے معنی ہیں امن میں رہنا اور امن دینا۔ جس مذہب کے نام کے یہ معنی ہوں کہ وہ امن ہے امن میں رہتا ہے اور امن دنیا کو دیتا ہے اس کے متعلق یہ کہنا کہ وہ جبر کرتا ہے سرا سر غلط ہے اور نا سمجھی پر دلالت کرتا ہے۔ پھر خدا تعالیٰ کے اسماء حسنہ جو قرآن نے بیان کئے ان میں سے ایک نام مؤمن ہے۔ جس کے معنی ہیں امن دینے والا۔ پس جو خدا امن دینے والا ہے اور اپنے دین کا نام اسلام رکھتا ہے کیا اس کے متعلق یہ یقین کر سکتے ہیں کہ باوجود اپنا نام مؤمن بتانے اور باوجود اپنے دین کا نام اسلام رکھنے کے وہ اسی اسلام کے ذریعہ بدامنی، تشدد اور جبر کی تعلیم دے۔ اسی طرح مسلمانوں کے مقدس شہر مکہ کے متعلق ہے مَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا " کہ جو اس میں داخل ؟ جو اس میں داخل ہوا وہ امن میں ہو گیا کیونکہ کعبہ امن کی جگہ ہے۔ یہاں کعبہ سے مراد وہ خاص مکان بھی ہے جس کی طرف مسلمان منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں اور وہ مذہب ہی ہے جو امن کا حامی ہے۔ یعنی جو اس مذہب میں داخل ہو گا وہ خود بھی امن میں ہو جائے گا اور دوسروں کے لئے بھی امن کا باعث ہو گا۔ اسی طرح قرآن کریم ہے۔ اس کی نسبت فرماتا ہے کہ يَدْعُوا إِلَى دَارِ السَّلامِ نا کہ یہ امن کے گھر کی طرف بلاتا ہے۔ پھر مسلمان کا اپنا نام بھی "مسلم" ہے یعنی دنیا میں امن قائم کرنے والا۔ نماز کا نام عربی میں ” الصلوة" ہے۔ جس کا مفہوم ہے شفقت، رحمت، برکت برکت یعنی ان راہوں پر چلاتی ہے جن پر چلنے سے انسان شوخی و شرارت سے بچ جاتا ہے فسق و فجور سے نجات پالیتا ہے۔ اللہ تعالی کی شفقت اور رحمت پالیتا ہے اور اس کی طرف سے اسے برکت میتر آجاتی ہے۔ پھر مسلمان کسی دوسرے سے ملتے ہیں تو السَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہتے ہیں کہ تم پر اللہ کی سلامتی ہو تم اللہ کی طرف سے امن میں کئے جاؤ۔ آگے جواب دینے والا کہتا ہے تم پر بھی سلامتی ہو۔ کیا جو منہ سے السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کے گا کیا وہ آگے جا کر تلوار ہاتھ میں پکڑلے گا؟ عقل اسے نہیں تسلیم کرتی۔ پھر ہماری نماز کا اختتام بھی سلام پر ہے مسلمان جب نماز سے فارغ ہوتا ہے تو قبل اس کے کہ خدا کے دربار سے رخصت ہو وہ دائیں بائیں منہ کر کے السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ کہتا ہوا دنیا میں سلامتی اور امن پہنچاتا ہے۔ اب کوئی بتائے کہ جس کے دائیں بھی امن اور بائیں بھی امن آگے بھی پیچھے بھی امن، نیچے بھی امن اوپر بھی امن ہو جس کا نام امن جس کا کام امن کیا وہ امن کا دشمن اور تشدد اور جبر کا حامی ہو سکتا ہے۔