انوارالعلوم (جلد 9) — Page 15
انوار العلوم جلد 9 ۱۵ افراد سلسلہ کی اصلاح و فلاح کے لئے دلی کیفیت کا اظہار زندہ کون ہے تم مردہ اس کو سمجھتے ہو جو دنیا میں کھاتا پیتا چلتا پھرتا نہ ہو اور زندہ اس کو سمجھتے ہو جو چلتا پھرتا ہو اور خوب کھاتا پیتا ہو حالانکہ مردہ وہ ہے جو کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا ہو لیکن اس کے دل میں خدا کی یاد نہیں۔ ایک انسان جس کی روحانیت اور اخلاق بگڑے ہوئے ہیں جس کے اندر ایمان نہیں وہ مردہ ہے اور جس کے اندر یہ باتیں ہوں وہ ہمیشہ زندہ ہے۔ تمہارا چلنا پھرنا اور کھانا پینا یہ کوئی زندگی نہیں۔ زندگی تو احساس کو کہتے ہیں کیا انجن کو کوئی زندہ کہہ سکتا ہے ، مشینوں کو زندہ کہتا ہے حالانکہ وہ بھی تو چلتے ہیں۔ انہیں اس لئے زندہ نہیں کہتے کہ ان میں احساس نہیں۔ زندگی احساس کا نام ہے اگر تمہارے اندر احساس ہے تو تم اگر کروڑوں من مٹی کے ڈھیروں کے نیچے بھی ہو گے تو بھی زندہ ہی رہو گے ۔ A رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر بھی وہ احساس ہی کام کرتا تھا اور اس احساس کی وجہ سے آپ ہمیشہ زندہ ہیں ۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ سے اس طرح رونے کی آواز آتی تھی جس طرح ہنڈیا کے اُبلنے کی آواز آتی ہے۔ ۔ اس زمانہ میں تو جذبات کا اظہار کر لیا کرتے تھے لیکن آج اس قسم کا زمانہ ہے کہ ہمیں اپنے جذبات کو دبانا پڑتا ہے ۔ نماز میں رفت آتی ہے تو اسے دبا جاتے ہیں۔ پس میرے دل پر صدمہ ہے کہ تم میں ابھی تربیت کے آثار نظر نہیں آتے جب تک مجھے یہ تسلی نہ مل جائے کہ بوجھ اٹھانے والے اور سنبھالنے والے لوگ موجود ہیں۔ بعض لوگوں کو میرے متعلق خوابیں آئی ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ میری بیوی کے متعلق ہوں کیونکہ بیوی بھی مرد کا ایک حصہ ہوتی ہے۔ پس میرے غم اور میرے رونے کی وجہ تمہاری حالت ہے۔ تمہاری حالت کو دیکھ کر مجھ پر جنون کی حالت طاری ہوتی ہے کہ تمہارے اندرا بھی وہ قوت و طاقت نہیں کہ جس کے ساتھ تم اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکو۔ تم میں وہ وجود نظر نہیں آتے کہ دوسروں کے لئے اپنے دل میں درد پیدا کر سکیں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ تمہارے اندر رقت پیدا کرے ، قربانی کا جوش پیدا کرے ، باہم محبت پیدا کرے۔ پس اپنے اندر اخلاص ، محبت دین کے لئے قربانی اور خدا سے محبت اور اس کی خشیت پیدا کرو۔ دوسری وجہ میرے غم کی یہ ہے کہ میں اب آئندہ کے متعلق بھی خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔ رسول کریم ال بجلی چمکنے پر بہت گھبرائے پھرتے تو ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ بجلی چمکنے پر آپ کیوں گھبراتے ہیں۔ اس نے سمجھا کہ بچے ہی بجلی سے ڈرا کرتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ مجھے