انوارالعلوم (جلد 9) — Page 14
انوار العلوم جلد و ۱۴ افراد سلسلہ کی اصلاح و فلاح کے لئے دلی کیفیت کا اظہار پھر ان کو اسلام کے لئے کہا جاوے کہ فلاں جگہ سفر کو جاؤ تو وہ سفر اختیار کریں گے ۔ اور میں کہہ سکتا ہوں کہ تم میں سے ایک بھی نہیں جو ایسی حالت میں ایسا سفر اختیار کرے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ ایک مرتبہ حضرت خلیفہ اول نے مجھے ایک جگہ جانے کا حکم دیا اس وقت ناصر احمد کو نمونیہ تھا اور ڈاکٹر کہتے تھے کہ وہ چند گھنٹوں کا مہمان ہے لیکن میں نے حضرت خلیفہ اول سے اس کی بیماری کا ذکر تک بھی نہ کیا تاکہ کسی مذر کا موجب نہ سمجھا جاوے اور میں خدا تعالیٰ پر بھروسہ کر کے سلسلہ کی ضرورت کے لئے حکم پاکر سفر پر چلا گیا۔ تمہاری اور میری مثال تو اس شخص کی سی ہے جو کہ کسی کے گھر میں اپنا مال رکھے ۔ جب لینے جاوے تو وہ گھر والا شور مچاوے - چور ہے ۔ چور ہے۔ اسی طرح میں نے اس وقت جو درد محسوس کیا اور جس افسوس کا اظہار کیا وہ میرا افسوس اور درد مردوں کے لئے نہیں بلکہ زندوں پر ہے ۔ مجھے تمہاری ترقی کی فکر ہے اور اس کے لئے جو ایک ذریعہ ہو سکتا تھا وہ جاتا رہا اس پر بھی تمہاری یہ حالت ہے کہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے - اور تم یہ سمجھتے ہو کہ میں مرنے والی پر رویا ہوں اور تم مجھے صبر کی تعلیم دیتے ہو۔ میں سچ کہتا ہوں تمہیں صبر کے معنے ہی معلوم نہیں تم یہ بھی نہیں جانتے کہ صبر کیا چیز ہے ۔ ایک چیز موجود ہو پھر انسان اپنے جذبات کو قابو میں رکھے تب صبر کہلائے گا۔ دل میں جرات ہو ، ہاتھ میں طاقت ہو ، پھر تھپڑ کھا کر چپ رہے تو وہ صبر اور عفو کہلائے گا نہ یہ کہ مقابلہ کی طاقت ہی نہیں اور کہہ دے کہ میں نے بڑا صبر دکھایا ہے۔ اب سنو کل کا خطبہ اس کے پہلے حصہ میں ایک سیکنڈ کے لئے بھی مجھے وفات کا خیال نہیں آیا۔ صرف ایک مثال پر آیا وہ بھی ایک سیکنڈ کے لئے آیا تھا اور اس وقت مجھے بے شک رونا آیا لیکن وہ رونا ان مردوں کے لئے نہیں تھا جو قبروں میں پڑے ہیں بلکہ وہ ان مردوں کے لئے تھا جو میرے سامنے بیٹھے تھے۔ میرے آنسو یورپ کے مردوں پر تھے جن کے لئے میں سمجھتا تھا کہ مرحومہ میری سکیم میں مدد گار ہو گی۔ ایک بزرگ کا قصہ ہے کہ وہ جب کبھی قبرستان میں گذرتے تو منہ پر کپڑا ڈال دیتے۔ اور جب بازاروں میں سے گزرتے تو ایسا نہ کرتے۔ ایک شخص نے ان کی یہ حالت دیکھ کر کہا کہ یہ کیا اُلٹی بات آپ کرتے ہیں۔ تو اس بزرگ نے کہا کہ تجھے وہاں زندے نظر آتے ہیں یہاں قبرستان میں مردے نظر آتے ہیں مجھے وہاں مردے نظر آتے ہیں اور یہاں زندہ نظر آتے ہیں۔ پس میں جو روتا تھا تو وہ ان زندوں کے لئے نہیں روتا تھا جو قبروں میں ہیں بلکہ تم مردوں کے لئے روتا جو دنیا میں میرے سامنے ہو۔ تمہیں معلوم ہی نہیں کہ مردہ کون ہے اور