انوارالعلوم (جلد 9) — Page 443
انوار العلوم جلد 9 ۴۴۳ تقاریر جلسه سالانه ۱۹۲۶ اس کے بعد میں دوستوں کو وصیت کی طرف وصیتوں کے متعلق ہدایات مالی و یک کی بیت سے توجہ دلاتا ہوں۔ وصیت ہماری جماعت کے لئے نہایت اہم اور اصل چیز ہے۔ حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ جو شخص وصیت نہیں کرتا اس کے ایمان میں نفاق کا حصہ ہے۔ پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں۔ وصیت کی طرف خاص توجه کریم - جماعت کا کثیر حصہ ابھی تک وصیتوں سے خالی ہے۔ اس وقت ہماری جماعت کی ترقی کے ، مالی قربانیوں کی بہت ضرورت ہے۔ خدا تعالی کا منشاء ہے کہ ہم مالی قربانیوں میں پورا حصہ لیں۔ چنانچہ ایک دوست نے خواب دیکھا ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر ہماری جماعت بے نظیر کامیابی اور ترقی دیکھنا چاہتی ہے تو ہر احمدی اپنے مال کا چوتھائی حصہ خدا کے دین کی اشاعت کے لئے قربان کرے۔ چنانچہ انہوں نے لکھا ہے کہ میں اب سے ایسا ہی ادا کیا کروں گا۔ اہم کاموں کے لئے روپیہ کی ضرورت یہ زمانہ ایسا ہے کہ نہایت اہم کاموں کی ضرورت پیش آرہی ہے جس کے لئے روپیہ کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ مثلاً اب ہر ضلع میں ایک تربیت کرنے والے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اگر ہر ضلع میں ایک ایک مبلغ رکھا جائے تو صرف پنجاب اور سرحدی علاقہ کے لئے دس ہزار ماہوار خرچ کی ضرورت ہے اور اس رنگ میں تبلیغ کے بغیر جماعت کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ پس مالی قربانیوں کی طرف توجہ کی بہت ضرورت ہے۔ روزگاروں کو روزگار دلایا جائے پھر ہماری جماعت میں بہت سے دوست۔ بے روز ہے روزگار بھی ہیں۔ ان کے لئے ایک جگہ کا اعلان اخبار میں ہو چکا ہے۔ وہاں کئی سو احمدی معقول روزگار پر لگ سکتے ہیں۔ اس کے لئے دوست چوہدری غلام احمد صاحب ایڈووکیٹ پاک پٹن سے مل سکتے ہیں اور مفصل حالات دریافت کر سکتے ہیں۔ انتظام ضیافت آج مجھے معلوم ہوا ہے کہ کل رات ساڑھے بارہ بجے رات تک مہمانوں کو کھانا ملتا رہا ہے۔ مہمانوں کو جلدی کھانا کھلا دینا چاہئے۔ جب انہیں ساڑھے بارہ بجے کو کھانا ہی ملے گا تو انہیں ذکر کرنے کا کہاں موقع ملے گا اور دن کے وقت وہ تقریریں کیسے سن سکیں گے۔ اصل میں قادیان کی آبادی ابھی محدود ہے اور مہمان ہر سال پہلے سے زیادہ آتے ہیں اس لئے انتظام یہاں کے محدود دوستوں کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ میرے نزدیک