انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 422

انوار العلوم جلد 9 ۴۲۲ تقاریر جلسه سالانه ۶۱۹۲۶ گے۔ جنہوں نے اتنے سال قربانیاں کیں وہ یہ قربانی بھی کر لیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پہلے مجھے ان جیسے آدمی لا دو۔ ان پہلے آدمیوں کو تو یہاں سے جاتے ہی یہاں کی نسبت باہر اچھی جگہیں مل جائیں گی۔ چنانچہ پچھلے دنوں یہاں کے ایک کارکن کو جنہیں تخفیف میں آنا پڑا۔ اور معمولی تنخواہ لے رہے تھے باہر جاتے ہی ۲۰ ا مل گئے۔ اور پھر اس محکمہ میں جس میں وہ ملازم ہیں ترقی کا بھی کافی میدان ہے۔ لیکن ہمارا یہ مطلب ہے کہ ہمیں تم ان کی بجائے ان کی خصوصیات رکھنے والے آدمی کہاں سے لا دو گے۔ جنہوں نے سلسلہ کے کاموں میں عمریں صرف کر دیں۔ خدارا غور کرو ان کارکن دوستوں کے دلوں پر کیا اثر پڑے گا جب وہ یہ سنیں گے۔ کہ ہمارے متعلق لوگوں کے یہ خیالات ہیں۔ حالانکہ اگر آپ ان کو اپنے سروں پر اٹھاتے تو بھی ان کی خدمات کا بدلہ نہیں دے سکتے تھے۔ پھر ان باتوں کا نقصان ان کارکنوں کو تو نہیں پہنچے گا۔ ان کو تو بہتر سے بہتر ملازمتیں مل جائیں گی۔ ان باتوں سے سلسلہ کو نقصان پہنچے گا۔ ہمارے بعض دوست تو یہ شکایات کرتے ہیں۔ اور ہمارا یہ حال ہے کہ ہم قحط الرجال کے شاکی ہیں۔ یہ ایک شکایت میں نے مثلاً بیان کی ہے۔ ورنہ اور کئی اس قسم کی شکایات ہیں جو محض بدظنی سے پیدا ہوئی ہیں اور سلسلہ کو نقصان پہنچانے والی ہیں۔ پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس قسم کی باتوں سے پر ہیز کرو اور سلسلہ میں کام کرنے والوں کی قدر کرو۔ دیکھو جب یہ بات پھیلے گی تو نا واقف تو یہی سمجھیں گے کہ یہاں روپیہ برباد ہو رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ چندوں میں سست ہوں گے۔ اور اس سے چوہدری صاحب یا مفتی صاحب کو نقصان نہیں پہنچے گا۔ بلکہ سلسلہ کو پہنچے گا۔ سلسلہ کے کام درہم برہم ہو جائیں گے۔ پس اعتراض کرنے والا اس قسم کے کارکنوں پر اعتراض نہیں کرتا۔ بلکہ وہ اس جڑ پر تبر رکھتا ہے۔ جس کی حفاظت کے لئے خود خدا تعالی کھڑا ہے۔ اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ ایسے لوگوں کے ایمان نہ ضائع ہو جائیں۔ بچوں کی تربیت اس کے بعد میں اور ضروری بات کی طرف آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں۔ وہ یہ کہ بچوں کی تربیت کی بہت ضرورت ہے۔ احباب جلسہ پر تو بچوں کو ساتھ لے آتے ہیں۔ لیکن صرف اتنی تربیت ہی کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ اول تو یہاں بچوں کو بھیجیں اور اگر استطاعت نہ ہو تو پھر اپنے ہاں ہی بچوں کی خصوصیت سے دینی تربیت کی طرف توجہ کریں۔