انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 421

انوار العلوم جلد و ۴۲۱ تقاریر جلسه سالانه ۶۱۹۲۶ تنخواہ ملتی ہے۔ وہ اسی تنخواہ پر گزارہ کرتے ہیں اور باقی فرائض کو حِسْبَةً لِللَّهِ سرانجام دیتے ہیں۔ پھر مولوی شیر علی صاحب ہیں۔ ان کو اب ۲۰۰ ملتے ہیں۔ ایک تو ان کی انگریزی کی قابلیت وہ چیز ہے جو اوروں میں نہیں۔ اس کے علاوہ یہ قابلیت ان میں ہے کہ وہ مضمون پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ ان کے مضمون پڑھنے والے دوستوں نے دیکھا ہو گا کہ وہ کس طرح مضمون کی باریکیوں تک پہنچتے ہیں اور کوئی پہلو اس کا باقی نہیں چھوڑتے۔ پھر جب وہ یہاں ملازم ہوئے ہیں۔ اس وقت ان کا نام منصفی ( سب مجی) میں جا چکا تھا اور یہاں وہ ۲۰ روپے پر لگے تھے۔ میاں بشیر احمد صاحب ایم۔ اے ہیں ۔ وہ ۱۴۰ لیتے ہیں۔ ہمارا خاندان خاندانی حیثیت سے بھی کوئی معمولی خاندان نہیں۔ ہمارے خاندان نے جو گورنمنٹ کی خدمات کی ہیں ان کے لحاظ ہے وہ اعلیٰ سے اعلیٰ عہدہ پر لگ سکتے ہیں۔ ان کی لیاقت کا یہ حال ہے کہ انہوں نے جب میرے مضمون کو جو بذریعہ تار افتتاح مسجد پر لندن بھیجا گیا تھا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا۔ اس مضمون کی انگریزی کے لحاظ سے ولایت کے ایک بڑے آدمی نے لکھا کہ وہ انگریزی کے لحاظ سے کم از کم خان بہادر عبد القادر صاحب کی لیاقت کا مضمون تھا۔ اب ان کی قابلیت کا آدمی ان کے ذہن کا آدمی اگر ہمیں مل جاوے تو ہم بڑی خوشی سے لینے کو تیار ہیں۔ پھر میاں شریف احمد صاحب ہیں۔ ان کو ۱۰۰ روپیہ ماہوار ملتا ہے۔ آج سے آٹھ سال پہلے ان کو ۱۰۰ روپیہ گورنمنٹ نے دینا منظور کیا تھا۔ گورنمنٹ نے ان کو فوج میں لیفٹیننٹ کے عہدہ پر رکھا۔ کمانڈنگ آفیسرا نہیں واپس نہیں بھیجتا تھا۔ آخر میں نے کمانڈر انچیف کو بار بار لکھ کر اس کے ذریعہ آرڈر بھجوا کر واپس بلایا۔ سروس ہے۔ مولوی عبد المغنی صاحب ناظر بیت المال بی۔ ایس۔ سی ہیں۔ ان کی چودہ سال کی مدت در از تک وہ ساٹھ روپے ہی لیتے رہے ہیں۔ اب جب کہ ناظروں کا گریڈ مقرر ہوا۔ تو مناسب سمجھا گیا کہ ان کی تنخواہ میں بھی ترقی کی جاوے۔ چنانچہ کچھ عرصہ سے ان کی تنخواہ زیادہ کی گئی ہے۔ جس زمانے میں وہ یہاں آئے ہیں۔ اس زمانہ میں بی۔ ایس۔ سی فیل کی وہ تنخواہ تھی جو آج ایم۔ اے کی ہے۔ اب تم بتاؤ کہ کیا کوئی دنیا میں ایسی شریف اور مہذب گورنمنٹ ہے جو یہ برداشت کرے کہ وہ پندرہ پندرہ سال کے تجربہ کاروں کو نکال کرنے آدمی رکھ لے۔ یہ تو اندھی نگری چوپٹ راجا والا معاملہ ہو گا۔ میں ان اپنے کارکن دوستوں کو کہہ سکتا ہوں کہ تم آج ہی قادیان کو چھوڑ دو اور ان ملازمتوں کو چھوڑ دو اور وہ آج ہی شام سے پہلے پہلے استعفیٰ لے آئیں