انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 416

انوار العلوم جلد 9 LIN تقاریر جلسه سالانه ۱۹۲۶ء کے اور کئی ایک قدرتی سامان پیدا ہونے شروع ہو گئے۔ مثلاً ایک یہ بات شہرت کا باعث بن گئی کہ یہ تحریک کی گئی کہ ابن سعود کے لڑکے کو بلایا جائے۔ چنانچہ ابن سعود نے بھی اس تحریک کو پسند کیا اور اپنے لڑکے امیر فیصل کو جو مکہ کا گورنر ہے بھیجنے کا وعدہ کیا۔ اب امیر فیصل کے خاص افتتاح مسجد کے لئے آنے کی خبر سے اور بھی شہرت ہونے لگی۔ جب امیر فیصل ولایت پہنچاتو بیان کیا جاتا ہے کہ ہندوستان سے مولویوں نے تاریں دیں کہ یہ کیا کام کرنے لگے ہو۔ ہماری کیوں ناک کاٹنے لگے ہو۔ تمہاری اس حرکت سے ہماری ناکیں کٹ جائیں گی۔ اسی طرح مصر سے بھی ہمارے خلاف آواز میں اُٹھیں۔ یہ تاریں گئیں اور اسے روک دیا گیا۔ اب اس کے روکنے پر سارے برطانیہ میں اور بھی شور پڑ گیا کہ روکنے کی کیا وجہ ہوئی۔ یہ کیا بات ہے کہ امیر فیصل مکہ سے چل کر جس کام کے لئے ولایت پہنچتا ہے اس کام سے اسے روکا جاتا ہے کوئی خاص راز ہو گا۔ ولایت کے لوگ راز کے پیچھے بہت پڑ جاتے ہیں۔ راز کو معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ مضمون پر مضمون نکلنے لگے کہ اس میں راز کیا۔ ہے۔ ان مضامین کا ہیڈنگ ہی یہ ہوتا تھا کہ راز کیا ہے جب کئی روز تک بڑے زور سے آرٹیکل پر آرٹیکل نکلے کہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے امیر فیصل یہاں پہنچ کر افتتاح مسجد سے رک گیا ہے۔ تو وہاں لوگوں میں اور بھی بہیجان پیدا ہوا کہ چلو اس مسجد کو تو چل کر دیکھیں کہ جس کے افتتاح کے لئے امیر فیصل مکہ سے یہاں پہنچا اور یہاں آکر اس کے افتتاح سے رک گیا۔ دراصل یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی اس منشاء کے ماتحت ہوا کہ ہمارے سلسلہ کی شہرت بھی ہو جائے اور پھر احسان بھی کسی کا نہ ہو۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ افتتاح تو پھر بھی ایک غیر احمدی کے ہاتھ سے ہوا۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم نے کب اسلام کو تمہاری طرح تنگ ظرف مانا ہے۔ ہمارے نزدیک اسلام ایسا تنگ ظرف نہیں۔ عجیب بات ہے کہ رسول اللہ اللہ جب عیسائیوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں تو ان پر اعتراض نہیں کرتے اور ہمارے صرف چابی دینے پر اعتراض کرتے ہو۔ پھر وہ مسجد اتنی بابرکت ہے کہ اس کے افتتاح کے ساتھ ہی اس کی برکات ظاہر ہونی شروع ہو گئیں۔ افتتاح ہی کے موقع پر چار انگریز مسلمان ہو گئے۔ پھر افتتاح پر ابھی دو ہفتہ ہی گزرے کہ ایک اعلیٰ درجہ کا تعلیم یافتہ نوجوان انگریز مسلمان ہو گیا۔ جس نے اسلام کی تائید میں ایک نہایت لطیف مضمون شائع کیا ہے اسی وجہ سے اس کے باپ نے اس پر تشدد شروع کر دیا جو اس بات کی علامت ہے کہ اب وہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ اسلام تو واقعہ میں پھیلنے لگا ہے۔ پہلے ہمارے کام کو ایک کھیل سمجھتے تھے لیکن اب محسوس کرنے لگے ہیں کہ اسلام پھیل رہا ہے۔ وہاں کا ایک اخبار