انوارالعلوم (جلد 9) — Page 415
انوار العلوم جلد 8 ۴۱۵ تقاریر جلسه سالانه ۶۱۹۲۶ انہوں نے فرمایا کہ اس محکمہ کا انچارج میں ہی ہوں آپ ہدایت فرمائیں کہ آپ کے سیکرٹری مجھے خط لکھ دیں تاکہ میں محکمہ کو توجہ دلا سکوں۔ اور اب ان کا خط آیا ہے۔ تو انہوں نے کہا پہلے تو یہ منظور شدہ تھا کہ ڈسٹرکٹ بورڈ کے پاس روپیہ جمع ہو گا تو اس سے سڑک بنائی جائے گی لیکن اب اُمید ہے کہ گورنمنٹ کے خرچ سے سڑک پختہ بنائی جائے۔ پھر ہمیں یہ بھی امید ہے کہ الیکشن میں ہماری مدد کا کم از کم یہ نتیجہ تو ضرور ہو گا کہ ممبر ہماری مخالفت نہیں کریں گے۔ چنانچہ شیخ عبد القادر صاحب بیرسٹر ایٹ لاء نے کہا کہ لوگوں نے الیکشن میں میری اس لئے مخالفت کی تھی کہ میں نے احمدیوں کی مسجد کا افتتاح کیا۔ مگر میں احمدی جماعت کا بہر حال مشکور ہوں کیونکہ اس نے مجھے ایسے کام کرنے کے موقع دیا کہ جو قیامت تک تاریخوں میں میری عزت کا باعث رہے گا اور آئندہ بھی میں جماعت احمدیہ کی ہر خدمت کے لئے تیار ہوں۔ مسجد لندن کے متعلق پانچ سال ہوئے میں نے تحریک کی تھی۔ مسجد برلن کا چندہ بھی اس میں شامل کیا گیا۔ اب میں عورتوں میں تحریک کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں کہ یا تو وہ مسجد لندن اپنے اس روپیہ کے معاوضہ میں لے لیں۔ اور یا اپنا روپیہ بطور قرضہ ہمارے پاس رہنے دیں۔ تاہم اسے سلسلہ کی اور ضروریات کے لئے کام میں لے آئیں۔ ان دو باتوں میں سے جو بات وہ پسند کریں اس کے لئے ہم تیار ہیں۔ افتتاح مسجد کی اہمیت اب دنیا کی کوئی تاریخ اس کو نہیں مٹا سکتی اور معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کے ہاں یہ مقدر ہو چکا ہے کہ یہ مسجد ہمیشہ قائم رہے۔ اللہ تعالی نے اس کی تعمیر کے لئے اور اسکی اس شہرت کے لئے ایسے سامان کر دیئے کہ جن سے اس کی اہمیت اس قدر بڑھ رہی ہے کہ حیرانی ہی ہوتی ہے۔ پہلے اللہ تعالی نے اسے میرے ولایت جانے تک روکے رکھا۔ میرے وہاں جانے سے سلسلہ کی یکدم حیرت انگیز شہرت ہو گئی کیونکہ ولایت کے لئے یہ عجیب بات تھی کہ ایک نبی کا خلیفہ وہاں پہنچتا ہے اس لئے ہر اخبار میں ہمارا ذکر متواتر ہوتا رہا اور کثرت کے ساتھ فوٹو چھتے رہے حتی کہ ایک جرمن اخبار کے پورے صفحہ میں میرا فوٹو شائع ہوا۔ اسی طرح امریکہ میں بھی ہمارے متعلق خبریں شائع ہوئیں۔ چونکہ میرے وہاں جانے پر میرے ہاتھ سے مسجد کی بنیاد رکھی گئی تھی اس لئے پہلے بنیاد کے موقع پر بڑے بڑے وزیر ولارڈ آئے۔ ان وجوہات کے باعث اب لوگوں کو یہ انتظار لگی ہوئی تھی کہ کب یہ مسجد مکمل ہو تو ہم دیکھیں اور جب مکمل ہونے لگی تو شہرت