انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 403

انوار العلوم جلد 9 ۲۰۳ تقاریر جلسه سالانه ۶۱۹۲۶ سنتے زمانہ ہی نہیں آیا۔ جب انہوں نے ایک دوست سے حضرت مسیح موعود کا دعویٰ سنا تو آپ نے - ہی فرمایا کہ اتنے بڑے دعوئی کا شخص جھوٹا نہیں ہو سکتا اور آپ نے بہت جلد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کرلی۔ حضرت صاحب نے ان کا نام اپنے بارہ حواریوں میں لکھا ہے۔ اور ان کی مالی قربانیاں اس حد تک بڑھی ہوئی تھیں کہ حضرت صاحب نے ان کو تحریری سند دی کہ آپ نے سلسلہ کے لئے اس قدر مالی قربانی کی ہے کہ آئندہ آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ واسلام کا وہ زمانہ مجھے یاد ہے جبکہ آپ پر مقدمہ گورداسپور میں ہو رہا تھا اور اس میں روپیہ کی ضرورت تھی۔ حضرت صاحب نے دوستوں میں تحریک بھیجی کہ چونکہ اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ لنگر خانہ دو جگہ پر ہو گیا ہے ایک قادیان میں اور ایک یہاں گورداسپور میں۔ اس کے علاوہ اور مقدمہ پر خرچ ہو رہا ہے لہذا دوست امداد کی طرف توجہ کریں۔ جب حضرت صاحب کی تحریک ڈاکٹر صاحب کو پہنچی تو اتفاق ایسا ہوا کہ اسی دن ان کو تنخواہ قریباً ۴۵۰ روپے ملی تھی وہ ساری کی ساری تنخواہ اسی وقت حضرت صاحب کی خدمت میں بھیج دی۔ ایک دوست نے سوال کیا کہ آپ کچھ گھر کی ضروریات کے لئے رکھ لیتے تو انہوں نے کہا کہ خدا کا مسیح لکھتا ہے کہ دین کے لئے ضرورت ہے تو پھر اور کس کے لئے رکھ سکتا ہوں۔ غرض ڈاکٹر صاحب تو دین کے لئے قربانیوں میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ حضرت صاحب کو انہیں روکنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور اُنہیں کہنا پڑا کہ اب آپ کو قربانی کی ضرورت نہیں۔ ایک دفعہ میری صحت کمزور ہو گئی تو میں گورداسپور چلا گیا۔ حضرت صاحب کو خیال آیا کہ شاید بیوی کے آنے پر میری صحت ٹھیک ہو جائے تو آپ نے ڈاکٹر صاحب کو لاہور لکھ بھیجا کہ محمود احمد کی صحت اچھی نہیں اس لئے آپ اپنی لڑکی یہاں بھیج دیں۔ ڈاکٹر صاحب میڈیکل کالج لاہور میں پروفیسر تھے اور پر نسپل آپ سے کچھ شاکی رہتا تھا۔ اُن کو خیال تھا کہ پر نسپل چھٹی تو دیگا نہیں اس لئے میں استعفیٰ دے دوں گا۔ اس خیال سے آپ استعفیٰ دینا چاہتے تھے کہ آپ کو دوست نے اس سے روکا اور کہا کہ چھٹی کیوں نہیں لیتے۔ انہوں نے کہا حضرت صاحب نے مجھے یہ لکھا ہے اب میں کسی طرح رک نہیں سکتا اور میں جلدی قادیان پہنچنا چاہتا ہوں۔ اگر پرنسپل نے چھٹی دیدی تو خیر ورنہ اسی وقت استعفیٰ دیدوں گا تا میرے بہانے میں دیر نہ لگے۔ پھر قادیان کی رہائش با وجود مشکلات کے اختیار کی۔ میں نے اس خیال سے قادیان کی رہائش سے اُن کو روکا تھا کہ وہ یہاں گزارہ نہیں کر سکیں گے۔ چنانچہ اُنہوں نے تکلیف سے ہی گزارہ کیا