انوارالعلوم (جلد 9) — Page 402
الدار العلوم جلد و ۲۰۲ تقاریر جلسه سالانه ۶۱۹۳۶ تعجب انگیز تھی اس لئے ہم نے اس تحقیقات کی ضرورت محسوس کی کہ لوگوں کے کم آنے کی کیا بہ ہے۔ کل صبح کی نماز کے وقت تک منتظمین کی رائے تھی کہ گیارہ سو آدمی کم آیا ہے۔ جو واقع میں فکر کی بات تھی کیونکہ یہ کمی خلاف معمول تھی جبکہ ہر سال پہلے سے زیادہ لوگ آتے تھے۔ وجہ ایک کشف آج جب صبح کی نماز پڑھ کر میں نے سلام پھیرا تو معادائیں طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا۔ اس پر میں نے سمجھا کہ ہمارا اندازہ غلط ہے اس دفعہ بھی لوگ ہمارے اندازہ سے زیادہ ہی آئیں گے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام تشریف لائیں اور پھر لوگ کم آئیں۔ بادشاہ کے آنے پر تو لوگ زیادہ آیا کرتے ہیں۔ چنانچہ آج جلسہ گاہ شہادت دے رہا ہے اس بات کی کہ باوجود جلسہ گاہ کے پہلے کی نسبت زیادہ وسیع ہونے کے اب زیادہ آدمیوں کی گنجائش نہیں۔ اور یہ ہمارے لئے نشان ہے کیونکہ دوسری مجالس میں دنیوی فوائد ہیں اور یہاں دنیوی نقصان ہیں۔ ان مجالس میں لوگ خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور یہاں آنے پر دوسرے لوگ ناراض ہوتے ہیں۔ ہمارا معاملہ دوسرے لوگوں سے بالکل الگ ہے۔ یا درفتگان قبل اس کے کہ میں اصل تقریر کو شروع کروں۔ میں ان دو روں۔ میں ان دوستوں کے لئے اپنے جذبات کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں جو اس سال ہم سے جدا ہو گئے ہیں اور جو سلسلہ کے لئے عمود تھے۔ جدائی ایک تلخ چیز ہے لیکن خدا کا قانون بھی۔ می ہے اس لئے ہمیں وہ تلخ گھونٹ پینا ہی پڑتا ہے۔ بیشک بسا اوقات جدائی رحمت کا موجب ہو جاتی ہے اور ہم اللہ تعالی کے قانون کا شکوہ نہیں کرتے لیکن یہ بھی اسی کا قانون ہے کہ مفید وجود کے اُٹھ جانے سے ہر دل غم محسوس کرتا ہے۔ اس دفعہ ہمارے سلسلہ میں سے چند دوست ہم سے جدا ہو گئے جن کے ساتھ بعض خصوصیات وابستہ تھیں۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب تھے۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو ایسے زمانہ میں قبول کیا جبکہ چاروں طرف مخالفت زوروں پر تھی اور پھر طالب علمی کے زمانہ میں قبول کیا اور مولویوں کے گھرانہ میں قبول کیا۔ آپ کا ایسے خاندان کے ساتھ تعلق تھا کہ جس کا یہ فرض سمجھا جاتا تھا کہ حضرت مسیح موعود سے دنیا کو روکیں۔ اور اس وقت ساری دنیا آپ کی مخالفت پر تلی ہوئی تھی۔ پس ان کا ایسے حالات میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کرنا ان کی بہت بڑی سعادت پر دلالت کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب پر مخالفت کا