انوارالعلوم (جلد 9) — Page 337
انوار العلوم جلد 9 ۳۳۷ حق الیقین (۵) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خشیت اللہ آپ کے دل میں اس قدر تھی کہ خدا تعالیٰ کا نام آنے پر آپ حتی المقدور اپنے حقوق کے چھوڑ دینے پر بھی تیار ہو جاتے تھے۔ (1) اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ان لوگوں سے بھی حسن سلوک کرنے سے دریغ نہیں کرتے تھے جو آپ کے لئے ایذاء اور تکلیف کا موجب بنتے تھے۔ غرض بجائے اس کے کہ اس واقعہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کوئی ادنیٰ سے ادنی اعتراض بھی پڑتا ہو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ اخلاق حسنہ کا ایک بے نظیر نمونہ تھے پیشتر اس کے کہ میں اس اعتراض کا جواب ختم کروں میں ان استدا، رات پر بھی روشنی ڈالنا پسند کرتا ہوں جو میرے اوپر کے بیان کے خلاف بخاری کی نقل کردہ احادیث سے دشمن کر سکتا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ حدیث میں جو یہ لفظ ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت کا ذکر کیا گیا اور آپ نے اس کو بلوایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا اس سے نکاح نہیں ہوا تھا۔ مگر یہ اعتراض درست نہیں ہو سکتا اس لئے کہ اس عورت کے متعلق جب کہ تاریخ اور حدیث سے ثابت ہے کہ اس کے باپ یا بھائی نے خود اس کا ذکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا ہے اور نکاح کی درخواست کی ہے اور مہر مقرر کیا ہے اور نکاح پڑھا گیا ہے بلکہ اس عورت کے واقع سے فقہاء یہ استدلال کرتے چلے آئے ہیں کہ عورت کے منہ پر اسے ضرور تا طلاق دینی جائز ہے۔ تو پھر ان الفاظ سے یہ کیونکر نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اس کا نکاح نہیں ہوا تھا۔ اس حدیث سے تو صرف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ چونکہ اس جگہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کٹورے کا اصل حدیث اس بارے میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کٹورے میں ایک صحابی نے ایک اپنے دوست کو پانی پلایا ہے ) ذکر کرنا مقصود تھا نکاح کے ذکر کو مختصر کر دیا ہے۔ چنانچہ طلاق کے ذکر میں یہی راوی اس واقعہ کا بیان کرتے ہوئے وئے بیان کرتا ہے ۔ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَيْمَةَ بُنَتَ شَرَاحِيْلَ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جونیہ عورت سے نکاح کیا تھا۔ دوسرا استدلال یہ کیا جا سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ لفظ استعمال فرمائے ہیں کہ اپنا نفس مجھے دے۔ تو ان سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح نہیں ہوا تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ الفاظ اس امر پر دلالت نہیں کرتے کہ نکاح نہیں ہوا تھا بلکہ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قومی شرف کو مد نظر رکھتے ہوئے اور اخلاق فاضلہ سے