انوارالعلوم (جلد 9) — Page 336
انوار العلوم جلد 9 ٣٣٦ حق الیقین بلا صحبت طلاق دے دی جائے۔ جب آپ نے اس کو رخصت کر دیا تو ابو اسید اس کو اس کے گھر پہنچا آئے۔ اس کے قبیلہ کے لوگوں پر یہ بات نہایت شاق گزری اور انہوں نے اس کو ملامت کی مگر وہ یہی جواب دیتی رہی کہ یہ میری بد بختی ہے اور بعض دفعہ اس نے یہ کہہ دیا کہ مجھے دھوکا دیا گیا۔ مجھے کسی نے سکھا دیا تھا کہ تو اس طرح کہ یو اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل تیری طرف خاص طور سے مائل ہو جائے گا۔ یہ ہے اصل واقعہ جو تاریخوں اور احادیث میں مفصل موجود ہے۔ اس موجودگی میں مصنف ہفوات کا احادیث بخاری پر یہ اعتراض کرنا کہ ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر زنا کی تہمت لگائی گئی ہے۔ اور اس اعتراض کو زور دار بنانے کے لئے ایک آریہ صاحب کو بھی اپنی مدد کے لئے لانا مصنف ہفوات کے جن اندرونی جذبات پر دلالت کرتا ہے ان کا اندازہ لگانا میں حق پسند لوگوں پر ہی چھوڑتا ہوں۔ مذکورہ بالا حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ جو واقعہ احادیث میں مذکور ہے اس کی بناء پر نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کسی قسم کا اعتراض کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کے بیان کرنے پر محد ثین پر کوئی حرف گیری کی جاسکتی ہے۔ بلکہ اس واقعہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی مندرجہ ذیل خوبیاں نمایاں طور پر ظاہر ہوتی ہیں۔ (1) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو عربوں کی اصلاح کی خاطر ان کے جذبات کے خیال رکھنے کا خاص طور پر احساس تھا۔ (۲) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اخلاق ایسے اعلیٰ درجہ کے تھے کہ آپ اپنی بیویوں سے بھی جو تمام قوانین تمدن کے ماتحت خاوند کے زیر حکومت سمجھی جاتی ہیں ایسے رنگ میں کلام کرتے تھے جو نہایت مؤدب ہوتا تھا اور جسے سن کر انسان خیال کر سکتا ہے کہ گویا کسی نہایت قابل ادب وجود سے آپ کلام کر رہے تھے۔ (۳) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو نکاح میں عورت کی رضامندی کا اس قدر خیال تھا کہ نکاح کے بعد اس خیال سے کہ شاید عورت کی رضامندی حاصل نہ کی گئی ہو آپ نے سے کہا کہ هَبِی نَفْسَكِ لِی اپنا آپ مجھے سونپ دے یعنی نکاح پر رضا ظاہر کر۔ (۴) اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ نہایت اشتعال انگیز باتوں پر بھی خندہ جونیہ سے پیشانی سے صبر کر جاتے تھے۔