انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 329

انوار العلوم جلد 9 ۳۲۹ حق الیقین مُنَكِّسَةً رَأْسَهَا فَلَمَّا كَلَّمَهَا النَّبِيُّ القَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ فَقَالَ قَدْ أَعَذْتُكِ مِنِّي فَقَالُوا لَهَا أَتَدْرِينَ مَنْ هُذَا قَالَتْ لَا قَالُوا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَخْطُبَكِ قَالَتْ كُنْتُ أَنَا أَشْقَى مِنْ ذَلِكَ " ترجمہ ۔ سہل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عرب کی ایک عورت کا ذکر کیا گیا۔ پس آپ نے ابواسید الساعدی کو حکم فرمایا کہ اس کو بلوا بھیجے۔ انہوں نے بلوا بھیجا۔ جب وہ آئی تو بنو ساعدہ کے قلعے میں اتری اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف تشریف لے گئے۔ جب وہاں پہنچے اور اس کے پاس گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عورت سر جھکائے بیٹھی ہے۔ جب آپ نے اس سے کلام کیا تو اس نے کہا کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ آپ نے فرمایا میں نے تجھے اپنے سے پناہ دی۔ اس پر لوگوں نے اس سے کہا کیا تو جانتی ہے یہ شخص کون تھا؟ اس نے کہا نہیں انہوں نے کہا یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے جو تجھ سے نکاح کی درخواست کرنے آئے تھے۔ اس نے کہا میرے جیسی بد بخت آپ کے لائق کہاں۔ کیا کوئی شخص ساری حدیث کو پڑھ کر کہہ سکتا ہے کہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر کوئی الزام لگایا گیا ہے اگر اس حدیث سے کوئی استدلال کیا جا سکتا ہے تو صرف یہ کہ آپ ایک عورت کے پاس گئے اور اسے نکاح کا پیغام دیا۔ لیکن اس بدبخت نے کسی کے سکھانے سے یا اپنے نفس کی شرارت سے نہ صرف نکاح سے انکار کیا بلکہ نہایت بڑے لفظوں میں انکار کیا اور اس پر ۔ آپ بلا کچھ کے واپس تشریف لے آ۔ لے آئے کیونکہ شرعاً عورت کا حق ہے کہ وہ اپنی رضامندی سے نکاح کرے کوئی اسے کسی خاص جگہ نکاح کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا ( میں آگے چل کر بتاؤں گا کہ فی الواقع یہ استدلال بھی درست نہیں کیونکہ اس عورت سے آپ کی شادی ہو چکی تھی) اور پھر اگر اس حدیث سے کچھ معلوم ہوتا ہے تو یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ بادشاہوں سے بالکل مختلف تھا ان کی خواہش کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے احکام کی پیروی میں اس امر کی بالکل پرواہ نہیں فرماتے تھے کہ کوئی شخص آپ کی نسبت ہتک آمیز الفاظ کہہ دے۔ یہ ٹکڑا حدیث کا کس طرح وضاحت سے بتا دیتا ہے کہ مصنف ہفوات کی نیت نیک نہیں بلکہ بد ہے کیونکہ وہ اتنا تو بیان کر دیتا ہے کہ ایک عورت کا ذکر کیا گیا اور آپ نے اس کو بلوایا اور اس کے پاس تشریف لے گئے لیکن اس کا اگلا حصہ جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ آپ ایک جماعت سمیت اس