انوارالعلوم (جلد 9) — Page 328
انوار العلوم جلد 9 ۳۲۸ حق اليقين ہے۔ اور پہلی بات کی تصدیق کے لئے بخاری کی ایک حدیث جس کے راوی سہل بن سعد ہیں اور جو کتاب الاشربة کے بَابُ الشَّرْبِ مِنْ قَدْحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں درج ہے۔ لکھی ہے اور دوسرے الزام کی تصدیق کے لئے بخاری کی ایک اور روایت جو ابو سعید سے مروی ہے اور کتاب الطلاق میں درج ہے بیان کی ہے۔ گو مصنف ہفوات نے یہ اعتراض الگ الگ ہیڈ نگوں کے نیچے اور الگ روایتوں کی سند سے لکھے ہیں۔ لیکن میں ان کا جواب اکٹھا ہی دینا چاہتا ہوں۔ کیونکہ ان کو الگ الگ اعتراض مصنف ہفوات کی بوالہوسی نے بنا دیا ہے ورنہ یہ دونوں اعتراض ایک ہی ہیں اور یہ دونوں روایتیں ایک ہی واقعہ کی طرف اشارہ کر رہی ہیں اور ان کو الگ الگ واقعات سمجھنا یا تو مصنف ہفوات کے بڑھے ہوئے بغض پر دلالت کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ کسی بات کے سمجھنے سے بالکل معذور ہو گئے ہیں اور یا اس پر شاہد ہے کہ وہ علم حدیث سے بالکل کو رے ہیں اور صرف کتابیں کھول کر نقل کر دینے کی عادت رکھتے ہیں اور اس نقل میں بھی عقل سے کام نہیں لے سکتے۔ جن لوگوں نے کوئی ایک کتاب بھی حدیث کی پڑھی ہے وہ جانتے ہیں کہ ایک واقعہ کو کئی کئی آدمیوں نے بیان کیا ہے اور ان مختلف لوگوں کی روایت کی وجہ سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ واقعہ دو ہیں۔ اگر ایک واقعہ کو سو آدمی دیکھ کر اپنے اپنے دوستوں کے سامنے بیان کریں تو وہ سو واقعات نہیں ہو جاتے۔ جیسا کہ ظاہر ہے ان دو حدیثوں میں ایک ہی واقعہ دو راویوں کی زبان سے بیان ہوا ہے۔ اور جیسا کہ میں آگے ثابت کروں گا یہ ایسی ثابت شدہ بات تھی کہ مصنف صاحب ہفوات اگر علم حدیث سے محض نابلد اور جاہل آدمی نہیں ہیں تو ان کو اس کا علم ہونا چاہئے تھا۔ اور اگر ان کو اس کا علم تھا تو اس صورت میں صرف یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ اعتراضوں کی تعداد بڑہانے کے لئے انہوں نے ایک واقعہ کو دو بنا دیا ہے۔ جن حدیثوں پر مصنف ہفوات نے اعتراض کیا ہے اور جو اعتراض ان پر کئے ہیں ان کو بیان کر کے میں بتاتا ہوں کہ انہوں نے کسی جہالت یا دھوکا دہی کا ثبوت دیا ہے پہلی حدیث وہ یہ لکھتے بي عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ ذُكِرَ النَّبِيِّ امْرَأَةً مِنَ الْعَرَبِ فَأَمَرَ يَا أُسَيْدٍ السَّاعَدِى أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا فَأَرْسَلَ فَقَدِمَتْ فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةً فَخَرَجَ النَّبِيُّ لا حَتَّى جَاءَهَا فَدَ عَلَ عَلَيْهَا - الخ میں مضمون کو سمجھانے کے لئے جو حصہ حدیث کا مصنف ہفوات نے چھوڑ دیا ہے اس کو بھی لکھ دیتا ہوں۔ آگے لکھا ہے فَإِذَا امْرَاء