انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 317

انوار العلوم جلد 9 ۳۱۷ حق الیقین میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی نسبت قرآن کریم میں بار بار استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ بعض آیات اور لکھ دیتا ہوں جن سے معلوم ہو گا کہ خدا تعالیٰ بھی غضب کرتا ہے۔ سورہ مجادلہ میں فرماتا ہے تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ سورۃ نساء میں ہے وَ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَ لَعَنَهُ ۔ سورۃ فتح میں ہے وَ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ اور اگر مصنف ہفوات نماز کے فریضہ کے ادا کرنے کی طرف بھی کبھی متوجہ ہوتے ہیں تو ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ سورہ فاتحہ جسے ایک مسلمان کم سے کم بیس دفعہ دن میں پڑھتا ہے اس میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ " ایک قوم کی نسبت آتا ہے۔ اور اس غضب کی مدت قیامت تک ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ مَنْ يَسُومُهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ * ترجمہ: جب تیرے رب نے خبر دے دی کہ وہ ان لوگوں پر قیامت تک ایسے لوگ مقرر کرتا رہے گا جو ان کو سخت عذاب دیتے رہیں گے۔ ضرور تیرا رب جلد بڑے کام کا بدلہ دینے والا ہے۔ اور وہ ساتھ ہی بہت بخشنے والا اور مہربان بھی ہے۔ اب اگر غضب کرنے والا اپنے کام سے ا اپنے کام سے معطل ہو جاتا ہے ا اتا ہے اور اسی صورت میں وہ غضب کر سکتا ہے جب اور کسی کی بات کی اسے ہوش نہ رہے تو کیا اللہ تعالیٰ بھی اپنے کام سے معطل ہو جاتا ہے اور اگر باوجود اس کے کہ یہ لفظ بار بار اللہ تعالیٰ کی نسبت استعمال ہوا ہے اللہ تعالیٰ کی شان میں کچھ فرق نہیں آتا تو کیا رسول کی شان خدا سے بڑھ کر ہے کہ اگر اس کی نسبت یہ لفظ استعمال ہو جائے تو اس کی شان میں فرق آجاتا ہے۔ اگر یہ کہو کہ خدا تعالیٰ کی نسبت تو یہ الفاظ بطور استعارہ اور مجاز استعمال ہوتے ہیں اور بندوں کی نسبت اصل معنوں میں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کوئی قاعدہ ایسا نہیں جس میں استعارہ اور مجاز کے استعمال کے لئے یہ حد لگائی گئی ہو کہ فلاں کے لئے وہ استعمال ہو سکتا ہے اور فلاں کے لئے نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کے لئے یہ لئے یہ لفظ بطور استعارہ استعمال ہوتے ہیں تو وہی لفظ اگر اللہ تعالیٰ کے رسول کی نسبت آگیا ہے تو اس کے حقیقی معنے اگر رسول کی شان کے خلاف ہیں تو ہم اسی طرح اس جگہ اس کے مجازی معنے لے لیں گے جس طرح اللہ تعالٰی کی نسبت اس کے مجازی معنے لیتے ہیں۔ دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ مجاز اور استعارہ کے طور پر وہی لفظ کسی قدوس اور پاک ہستی کی نسبت استعمال کیا جاتا ہے جو پاک ہو۔ پس اگر مجازاً بھی غضب کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال کیا