انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 277

انوار العلوم جلد 9 احمد کی خواتین کی تعلیم و تربیت حالت میں ہے اور ہم اس کو کافی نہیں سمجھتے لیکن ابتدائی کام اس طرح شروع نہ کریں تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بالکل رہ جاتا ہے۔ اگر تعلیم کا کام اسی طرح جاری رہا تو انشاء اللہ تعالی دو تین سال میں ایسی استانیاں تیار ہو جائیں گی کہ ہم مڈل تک لڑکیوں کا سکول جاری کر سکیں گے۔ پھر مڈل تک تعلیم یافتہ لڑکیوں کو پڑھا کر انٹرنس تک کے لئے اُستانیاں تیار کر سکیں گی۔ پھر ان سے لے کر اور اعلیٰ تعلیم دلا سکیں گے۔ ابھی ہمیں ایسی اُستانیوں کی بھی ضرورت ہے جو لڑکیوں کو نرسنگ اور ڈاکٹری کی تعلیم دے سکیں اس کے لئے چودھری غلام محمد صاحب نے اپنی لڑکی کو ڈاکٹری سکول میں داخل کر کے اچھی بنیاد رکھ دی ہے۔ آگے لڑکی کو بھی اس کام کو پورا کرنے کی اللہ تعالی توفیق دے تو ہمیں بنی بنائی لیڈی ڈاکٹر مل جائے گی۔ یہ ابتداء ہے اگر یہ کام جاری رہا اور اگر عورتوں نے ہمت کی تو بہت کچھ کامیابی ہو سکتی ہے اور خدا تعالی بھی ان کی مدد کرے گا۔ میں ایڈریس جو اس وقت پیش کیا گیا ہے۔ لجنہ کی سیکرٹری نے جو میری بیوی ہیں بہت کوشش کی کہ میں اس کو دیکھ کر اصلاح کردوں۔ لیکن میں نے کہا میں ایک لفظ کی بھی اس میں کمی بیشی نہ کروں گا۔ میں نے کہا تم سمجھتی ہو اگر تمہارے لکھے ہوئے ایڈریس میں کوئی غلطی ہوئی تو لوگ تمہیں جاہل کہیں گے مگر مرد بھی غلطیاں کر سکتے ہیں اور کرتے ہیں پھر تمہیں کیا خوف ہے۔ وہ ناراض بھی ہوئیں مگر میں نے ان کے مضمون میں دخل نہ دیا۔ میرا مطلب یہ تھا کہ اس طرح امداد دینا عورتوں میں بزدلی پیدا کرنا ہے۔ عورتیں تبھی کام کر سکتی ہیں جب وہ جرات اور دلیری سے کام لیں۔ مجھے سب سے بڑی تعلیم جو حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے دی وہ یہی تھی کہ جب میں پڑھتے ہوئے کوئی سوال کرتا تو آپ فرماتے میاں آگے چلو اس سوال کے متعلق گھر جا کر خود سوچنا۔ گویا آپ مجھے کوئی سوال نہیں کرنے دیتے تھے۔ حافظ روشن علی صاحب کی عادت تھی کہ سوال کیا کرتے تھے اور انہیں جواب بھی دیتے تھے مگر مجھے جواب نہ دیتے۔ اور بعض اوقات تو میرے سوال کرنے پر حافظ صاحب پر ناراض بھی ہوتے کہ تم نے اسے بھی سوال کرنے کی عادت ڈال دو دی ہے۔ عورتیں کہتی ہیں تم ہمیں تعلیم نہیں دیتے اس لئے ہم علم میں پیچھے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں ہمیں کس نے تعلیم دی۔ خدا تعالیٰ نے علم اکٹھا کر کے مردوں کے پاس نہیں بھیج دیا تھا کہ مردوں نے سارے کا سارا خود لے لیا اور عورتوں کو اس میں سے حصہ نہ دیا۔ مردوں نے خود کوشش کر کے سیکھا انہیں آگیا۔ تم بھی کوشش کرو اور سیکھو۔ اور اصل بات تو یہ ہے جس قدر مردوں کو علم