انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 276

انوار العلوم جلد 3 74 احمدی خواتین کی تعلیم و تربیت تھوڑی ایسی ہیں جو کم علم رکھتی ہیں۔ ان سے ہم اُمید رکھتے ہیں کہ جو اپنے گھروں میں رہنے والی ہوں گی وہ بھی وقت دیں گی اور سکول میں لڑکیوں کو پڑھائیں گی تاکہ لڑکیوں میں تعلیم بڑھے۔ دنیا میں یہ عجیب بات ہے کہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کسی چیز کا منبع وسیع ہوتا ہے مگر علم میں یہ بات ہے کہ منبع چھوٹا ہوتا ہے اور آگے جا کر زیادہ وسعت ہو جاتی ہے۔ اُستاد سے لڑکا زیادہ علم رکھتا ہے جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ شاگرد کو استاد سے ورثہ میں تجربہ اور عقل بھی ملتی ہے۔ اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں بیشک یہ عورتیں ایسی نہ ہوں گی جنہیں ہم مکمل اُستانیاں بنا سکیں مگر ان سے جو تعلیم پائیں گی وہ ان وہ ان سے اعلیٰ ہوں گی ہوں گی۔ پھر ان سے جو تعلیم پائیں گی وہ وہ ان سے اعلیٰ ہوں ہوں گی۔ یہی یورپ میں ہوا اور یہی یہاں بھی ہو سکتا ہے۔ ہم سکول میں بھی مرد مدرس رکھ کر تعبا مرد مدرس رکھ کر تعلیم دلا سکتے ہیں مگر اس طرح ایسی کامیابی کی امید نہیں ہو سکتی جیسی اس صورت میں ہے کہ مردوں کے ذریعہ استانیاں تیار کی جائیں اور وہ آگے لڑکیوں کو پڑھائیں تاکہ وہ اپنی شاگردوں سے ہنس کھیل بھی سکیں۔ تربیت تب ہی عمدگی سے ہو سکتی ہے جبکہ استاد شاگرد آپس میں کھیل بھی سکیں ، مرد یہ نہیں کر سکتے۔ ہاں اگر یہ استانیاں کام کی ہو جائیں تو یہ لڑکیوں سے مل کر رہ سکیں گی جو لڑکیوں کی استاد بھی ہوں گی اور ہمجولی بھی۔ لڑکیاں ان سے کھل کر باتیں بھی کر سکیں گی اور ان کے رنگ میں رنگین ہو جائیں گی۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو یہ استانیاں تیار ہو کر ہماری جماعت کی تعلیم مکمل ہو سکے گی۔ ہم پر دوسروں کی نسبت بہت زیادہ ذمہ داریاں ہیں۔ دوسرے لوگ یا تو جہالت پسند کرتے ہیں کہ عورتوں کو تعلیم ہی نہ دلائی جائے یا پھر یورپ کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم جہالت کو پسند نہیں کر سکتے کیونکہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں ہر حکمت کی بات مومن کی گم شدہ چیز ہے جہاں پائے لے لے تھے مگر دوسری طرف ہم یورپ کی نقل بھی نہیں کر سکتے اس وجہ سے ہمیں نیا طریق اختیار کرنا ہے۔ نیا اس لئے کہ اب تک جاری نہیں ورنہ اسلام میں تو موجود ہے۔ اب ہم نے جو کوشش شروع کی ہے وہ اگر چہ بہت چھوٹے پیمانہ پر ہے لیکن ہر بات ابتداء میں چھوٹی معلوم ہوتی ہے اور اپنے وقت پر اس کا نتیجہ نکلتا ہے۔ یہی مدرسہ احمد یہ جو اس حد تک ترقی کر گیا ہے اس کے متعلق کئی دفعہ بعض لوگوں نے چاہا کہ اسے توڑ دیا جائے۔ مگر جو توڑنے والے تھے وہ آج خود زبان حال سے کہہ رہے ہیں۔ رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ - کے کاش! ہم ایسا ہی کرتے۔ غیر مبائعین کی طرف سے آواز آرہی ہے کہ مولوی نہیں ہیں اس کے لئے کوئی انتظام ہونا چاہئے۔ خواتین کی تعلیم کے متعلق جو کوشش کی گئی ہے وہ ابتدائی