انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 215

انوار العلوم جلد 9 ۲۱۵ منهاج الطالبين خدا تعالیٰ کے نزدیک پاک نہیں ہے۔ ایک شخص قطعا کوئی گناہ نہ کرے مگر اس کے دل میں گناہ اور برائی سے اُلفت ہو اور گناہ کے ذکر میں اُسے لذت محسوس ہو تو وہ نیک اور پاک نہیں کہلا سکی گا جب تک اس کے دل میں بھی یہ بات نہ ہو کہ گناہ میں ملوث نہ ہو۔ اسی طرح کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ عادت کے ماتحت انہیں غصہ آتا ہے مگر گالی نہیں دیتے لیکن ان کا دل کہہ رہا ہوتا ہے کہ فلاں انسان بڑا بد معاش اور شریر ہے۔ ایسے لوگوں کے متعلق ہم یہ نہ تم یہ نہ کہیں گے کہ وہ پاکیزہ ہیں بلکہ یہ کہیں گے کہ وہ اپنے گند کو چھپائے بیٹھے ہیں۔ پس اسلام میں پاکیزگی دل کی ہے۔ اعمال اور زبان تو آلات اور ذرائع ہیں جن سے پاکیزگی ظاہر ہوتی ہے۔ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔ و إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبُكُمْ بِهِ الله کے کہ جو دل کی حالت ہو وہ محاسبہ کے نیچے آتی ہے خواہ تم دل کی حالت کو چھپاؤ یا ظاہر کرو۔ یہاں خدا تعالیٰ نے کیا عجیب نکتہ بیان فرما دیا کہ زبان اور اعمال تو دلی حالت کا اظہار کرتے ہیں۔ اصلی چیز دلی حالت ہے۔ خدا تعالیٰ اسی کا محاسبہ کرے گا۔ فرماتا ہے تم ولی حالت کو ظاہر کر دیا چھپاؤ۔ یعنی تم اعمال گندے نہ کرو یا زبان سے ظاہر نہ کرو مگر تمہارے دل میں گند ہے تو ضرور پکڑے جاؤ گے دوسری جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔ فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَ أَنْفِقُوا خَيْرًا لَّا نُفُسِكُمْ وَ مَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ٣٨ - کہ سب اعمال بجالاؤ۔ مگر نفس کو پاک کرو کیونکہ جس کے قلب میں بڑائی ہو گی وہ پکڑا جائے گا۔ یہ بات سمجھانے کے بعد کہ اصل نیکی دل کی پاکیزگی ہے اب میں یہ بتاتا ہوں کہ جس فطرت پر زنگ نہ ہو اس اس کے لئے گناہوں ۔ ناہوں سے بچنے کے تین علا اعلاج ہیں۔ (۱) یہ کہ اُسے بدیوں کا علم اور نیکیوں کی خبر ہو۔ خواہ دل ایک شخص کو کہتا ہو کہ نیکی کرو لیکن اگر نیکی کا پتہ ہی نہ ہو تو کیا کرے گا اسی طرح دل خواہ اُسے بڑائی سے باز رہنے کی تحریک کرتا ہو لیکن اُسے یہ علم ہی نہ ہو ن اُسے یہ علم ہی نہ ہو کہ فلاں فعل کا ارتکاب بڑائی ہے تو اس سے کس طرح بچ سکے گا۔ پس ضروری ہے کہ انسان کو معلوم ہو کہ اُسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ خالی کسی فعل کے کرنے یا کسی فعل کے ارتکاب سے باز رہنے کی استعداد کافی نہیں ہوتی۔ مثلاً کسی شخص کی خواہش ہو کہ وہ اپنے دوست کو خوش کرے، مگر وہ دوست بتاتا نہیں کہ کس طرح خوش ہو سکتا ہے تو وہ کیا کر سکتا ہے۔ پس سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ بدیوں کا علم اور نیکیوں کی خبر ہو۔ (۲) اسے معلوم ہو کہ بدیوں سے اجتناب اور نیکیوں پر عمل کرنے کے مواقع کیا کیا ہیں۔ یہ