انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 214

انوار العلوم جلد 9 الد منهاج الطالبين ترقی سے کیونکر نا امید ہو سکتا ہے۔ ہم ایسے بے ایمان نہیں ہیں کہ لاکھوں نشانات دیکھ کر اور خدا تعالی کے بے شمار وعدے پورے ہوتے دیکھ کر یہ خیال کریں کہ ہم دنیا کو فتح نہیں کر سکیں گے۔ بے شک ہم کمزور ہیں، ہمارے پاس ظاہری سامان نہیں، ہم میں طاقت نہیں لیکن دنیا کو ہم نے فتح نہیں کرنا بلکہ خدا تعالیٰ نے کرنا ہے اور اس کو سب طاقتیں حاصل ہیں۔ پس ہمیں مشکلات اور رکاوٹوں سے گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ خدا تعالیٰ کے وعدوں کے پورا ہونے پر پورا پورا وثوق ہونا چاہئے۔ آب میں اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔ گل یہاں تک مضمون پہنچا تھا کہ انسان کو پاکیزگی نفس اور طہارت قلب کس طرح میتر ہو سکتی ہے اور کونسے ذرائع ہیں کہ انسان بلوغت کو پہنچ کر گناہ کو اپنے سے دور رکھے اور نیکی حاصل کر سکے۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ دنیا میں انسانی طبائع مختلف قسم کی ہیں۔ کوئی ادنی ہے اور کوئی اعلیٰ۔ اس وجہ سے تمام فطرتوں کے لئے ایک قانون جاری نہیں ہو سکتا اور نہ ایک قسم کا علاج سب کے لئے مفید ہو سکتا ہے۔ دُنیا میں ہی دیکھا جائے تو ایک ہی بیماری کا سب کے لئے ایک علاج مفید نہیں ہو سکتا۔ میں نے دیکھا ہے نزلہ ہوتا ہے تو ایک بیمار ایسا ہوتا ہے کہ اگر وہ قہوہ پی لے تو دو گھنٹہ میں اس کا نزلہ ہٹ جاتا ہے۔ اور کوئی دہی میں میٹھا ملا کر پی لے تو اسی سے اس کا نزلہ جاتا رہتا ہے مگر کئی انسان ایسے ہوتے ہیں کہ کئی دن میں علاج کرانے کے بعد اچھے ہوتے ہیں کئی ایسے ہوتے ہیں کہ حکیموں سے مشورہ لینے کی انہیں ضرورت پڑتی ہے اور کئی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کی بیماری کے متعلق ڈاکٹروں کی عقلیں چکر میں آجاتی ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ مختلف لوگوں کو مختلف قسم کی بیماریاں ہوتی ہیں اور ان کو مختلف قسم کے علاج سے افاقہ ہوتا ہے۔ یہی حال دیگر اُمور میں بھی ہے چونکہ انسانی قوتوں کے تفاوت کا انکار کرنا نا ممکن ہے اس لئے ضروری ہے کہ علاج کے وقت لوگوں کے تفاوت اور استعدادوں کے اختلاف کو مد نظر رکھیں۔ اسی بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں گناہوں سے بچنے کا طریق بھی بیان کرتا ہوں۔ سب سے پہلے میں اس فطرت کو لیتا ہوں جو زنگ سے بالکل پاک ہوتی ہے اور جس میں طاقت ہوتی ہے کہ عقل سے کام لے سکے اور اعمال کو جاری رکھ سکے۔ سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اسلام میں پاکیزگی اس کا نام نہیں کہ زبان پر اچھی باتیں ہوں یا اعمال اچھے ہوں بلکہ اسلام میں اصل دل کی پاکیزگی ہے۔ جو انسان دل کا پاک نہیں وہ