انوارالعلوم (جلد 9) — Page 202
انوار العلوم جلد 9 ۲۰۲ منهاج الطالبين (۲) یہ کہ بچہ کو صاف رکھا جائے۔ پیشاب پاخانہ فوراً صاف کر دیا جائے۔ شاید بعض لوگ یہ کہیں یہ کام تو عورتوں کا ہے یہ صحیح ہے۔ مگر پہلے مردوں میں یہ خیال پیدا ہو گا تو پھر عورتوں میں ہو گا۔ پس مردوں کا کام ہے کہ عورتوں کو یہ باتیں سمجھائیں کہ جو بچہ صاف نہ رہے اس میں صاف خیالات کہاں سے آئیں گے۔ مگر دیکھا گیا ہے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔ مجلس میں اگر بچہ کو پاخانہ آئے تو کپڑے پر پھرا کر عورتیں کپڑا بغل میں دبا لیتی ہیں اور قادیان کے ارد گرد کی دیہاتی عورتوں کو تو دیکھا ہے، جوتی میں پاخانہ پھرا کر ادھر ادھر پھینک دیتی ہیں۔ جب بچہ کی ظاہری صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا تو باطنی صفائی کس طرح ہوگی؟ لیکن اگر بچہ ظاہر میں صاف ہو تو اس کا اثر اس کے باطن پر پڑے گا اور اس کا باطن بھی پاک ہو گا۔ کیونکہ غلاظت کی وجہ سے جو گناہ پیدا ہوتے ہیں اُن سے بچا رہے گا۔ یہ بات طب کی رو سے ثابت ہو گئی ہے کہ بچہ میں پہلے گناہ غلاظت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جب بچہ کا اندام نہانی صاف : ا صاف نہ ہو تو بچہ اسے کھجلاتا ہے۔ اس سے وہ مزا محسوس کرتا اور اس طرح اُسے شہوانی قوت کا احساس ہو جاتا ہے۔ اگر بچہ کو صاف رکھا جائے اور جوں جوں وہ بڑا ہو اسے بتایا جائے کہ ان مقامات کو صفائی کے لئے دھونا ضروری ہوتا ہے تو وہ شہوانی برائیوں سے بہت حد تک محفوظ رہ سکتا ہے۔ یہ تربیت بھی پہلے دن سے شروع ہونی چاہئے۔ (۳) غذا بچہ کو وقت مقررہ پر دینی چاہئے۔ اس سے بچہ میں یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ خواہشات کو دبا سکتا ہے اور اس طرح بہت سے گناہوں سے بچ سکتا ہے۔ چوری، لوٹ کھسوٹ وغیرہ بہت سی برائیاں خواہشات کو نہ دبانے کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہیں کیونکہ ایسے انسان میں جذبات پر قابو رکھنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جب بچہ رویا ماں نے اس وقت دودھ دے دیا۔ ایسا نہیں کرنا چاہئے بلکہ مقررہ وقت پر دودھ دینا چاہئے اور بڑی عمر کے بچوں میں یہ عادت ڈا ڈالنی چاہئے کہ وقت پر کھانا دیا جائے۔ اس سے یہ صفات : صفات پیدا ہوتی ہیں۔ (۱) پابندی وقت کا احساس۔ (۲) خواہش کو دبانا (۳) صحت (۴) مل کر کام کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ کیونکہ ایسے بچوں میں خود غرضی اور نفسانیت نہ ہو گی جبکہ وہ سب کے سب ساتھ مل کر کھانا کھائیں گے (۵) اسراف کی عادت نہ ہو گی۔ جو بچہ ہر وقت کھانے کی چیزیں لیتا رہتا ہے وہ ان میں سے کچھ ضائع کرے گا کچھ کھائے گا لیکن اگر مقررہ وقت پر مقررہ مقدار میں اسے کھانے کی چیز دی جائے گی تو وہ اس میں سے کچھ ضائع نہیں کرے گا۔ پس اس طرح بچہ میں تھوڑی چیز استعمال کرنے اور اسی سے خواہش کے پورا کرنے کی عادت ہو گی (۶) لالچ کا مقابلہ کرنے کی عادت ہو گی۔ مثلاً بازار میں