انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 201

انوار العلوم جلد 9 ۳۰۱ منهاج الطالبين اڑھائی سال کے قریب ہو گی۔ ہمارے ملک میں اگر بچہ سارے کھانے میں ہاتھ ڈالتا اور سارا منہ بھر لیتا ہے بلکہ ارد گرد بیٹھنے والوں کے کپڑے بھی خراب کرتا ہے تو ماں باپ بیٹھنے ہنستے ہیں اور کچھ پر واہ نہیں کرتے۔ یا یونہی معمولی سی بات کہہ دیتے ہیں جس سے ان کا مقصد بچہ کو سمجھانا نہیں بلکہ دوسروں کو دکھانا ہوتا ہے۔ حدیث میں ایک اور واقعہ بھی آتا ہے کہ ایک دفعہ بچپن میں امام حسن نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور منہ میں ڈال لی تو رسول کریم ال نے اُن کے منہ میں انگلی ڈال کر نکال لی۔ ۲۸ جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہارا کام خود کام کر کے کھانا ہے نہ کہ دوسروں کے لئے بوجھ بننا۔ ۲۹ غرض بچپن کی تربیت ہی ہوتی ہے جو انسان کو وہ کچھ بناتی ہے جو آئندہ زندگی میں وہ بنتا ہے۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ۔ مَا مِنْ مَّوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبْوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِرَانِهِ أَوْ يُمَحِّسَانِهِ " که بچہ فطرت رت پر پیدا ہوتا ہے۔ آگے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بناتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی سچ ہے کہ ماں باپ ہی اُسے مسلمان یا ہندو بناتے ہیں۔ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ جب بچہ بالغ ہو جاتا ہے تو ماں باپ اُسے گرجا میں لے جا کر عیسائی بناتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ بچہ ماں باپ کے اعمال کی نقل کر کے اور ان کی باتیں سن کر وہی بنتا ہے جو اس کے ماں باپ ہوتے ہیں۔ بات یہ ہے یہ ہے کہ بچہ میں نقل کی عادت ہوتی ہے۔ کی عادت ہوتی ہے۔ اگر ماں باپ اسے اچھی باتیں نہ سکھائیں گے تو وہ دوسروں کے افعال کی نقل کریگا۔ بعض لوگ کہتے ہیں بچوں کو آزاد چھوڑ دینا چاہئے خود بڑے ہو کر احمدی ہو جائیں گے۔ میں کہتا ہوں اگر بچہ کے کان میں کسی اور کی آواز نہیں پڑتی تب تو ہو سکتا ہے کہ جب وہ بڑا ہو کر احمدیت کے متعلق سنے تو احمدی ہو جائے لیکن جب اور آوازیں اس کے کان میں اب بھی پڑ رہی ہیں اور بچہ ساتھ کے ساتھ سیکھ رہا ہے تو وہ وہی بنے گا جو دیکھے گا اور سنے گا۔ اگر فرشتے اُسے اپنی بات نہیں سنائیں گے تو شیطان اس کا ساتھی بن جائے گا۔ اگر نیک باتیں اس کے کان میں نہ پڑیں گی تو بد پڑیں گی اور وہ بد ہو جائے گا۔ پس اگر آپ لوگ گناہ کا سلسلہ روکنا چاہتے ہیں تو جس طرح سگریشن کیمپ ہوتا ہے اُس طرح بناؤ اور آئندہ اولاد سے گناہ کی بیماری دور کر دو تا کہ آئندہ نسلیں محفوظ رہیں۔ تربیت کے طریق اب میں تربیت کے طریق بتاتا ہوں:۔ (۱) بچہ کے پیدا ہونے پر سب سے پہلی تربیت اذان ہے۔ جس کے متعلق پہلے بتا چکا ہوں۔