انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 186

انوار العلوم جلد 9 اعلیٰ اخلاق کیوں برتے جائیں اور بڑے اخلاق سے کیوں اجتناب کیا جائے؟ منهاج الطالبين یورپ کے لوگ چونکہ فلسفہ اشیاء کی طرف زیادہ متوجہ ہیں انہوں نے اس سوال کو خاص اہمیت دی ہے اور ان میں سے محققین نے بڑے غور کے بعد اس سوال کا یہ جواب دیا ہے کہ اعلیٰ اخلاق اپنی ذات میں اچھی چیز ہیں اس لئے خود اعلیٰ اخلاق کی خاطر نہ کہ کسی اور غرض سے ان کو قبول کرنا چاہئے۔ اسلامی ماہرین اخلاق نے اس سوال کا یہ جواب دیا ہے کہ انسان کو اخلاق کا اظہار بہ نیت ثواب کرنا چاہئے۔ اور امام غزالی یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر کوئی صحت کے خراب ہونے کے خیال سے زنا سے بچے تو وہ متقی نہیں ہے۔ اس خیال پر مغربی خیال کے دلدادہ دو اعتراض کرتے ہیں (۱) جو شخص کسی مریض کا علاج اس کی صحت کے خیال سے نہیں بلکہ ثواب کی خاطر سے کرتا ہے کیا وہ تاجر نہیں۔ پھر جو شخص تجارت کے طور پر ان کاموں کو کرتا ہے وہ کیوں اچھا سمجھا جائے۔ (۲) اگر کوئی شخص زنا سے اپنی حفاظت عزت یا صحت کے لئے بچے تو وہ کیوں عفیف نہیں ہے اور اگر عفیف نہیں ہے تو شریعت نے زنا سے منع کیوں کیا ہے؟ تم کہتے ہو چونکہ اس طرح زنا سے بچنے میں ثواب کی نیت نہیں اس لئے وہ اخلاق نہیں کہلا سکتے۔ ہم پوچھتے ہیں خدا کسی کام کا ثواب کیوں دیتا ہے، اسی لئے نا کہ جس کام کے متعلق وہ کہتا ہے یوں نہ کرو وہ نہ کیا جائے اور جس کام کے متعلق وہ کے کرو وہ کیا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کیوں کسی کام کے متعلق کہتا ہے کہ یہ کرو اور کیوں کہتا ہے کہ فلاں کام نہ کرو۔ اگر بغیر کسی حکمت کے تو اس کی شریعت بے معنی اور فضول ہوئی اور اگر کسی سبب سے اور حکمت کے ماتحت تو اس حکمت کو مد نظر رکھ کر کام کرنا کیوں اخلاق فاضلہ میں شامل نہ ہو گا۔ جس حکمت کو خدا تعالیٰ حکم دیتے وقت مد نظر رکھتا ہے اگر بندہ اسے کام کرتے وقت مد نظر رکھے تو اس کے کام کی قدر کیوں کم ہو جائے۔ مثلاً خدا تعالیٰ نے اگر زنا صحت یا قیام امن کے لئے منع فرمایا ہے تو جب ہم اسی غرض کو مد نظر رکھتے ہوئے زنانہ کریں تو یہ کیوں اچھا مخلق نہ سمجھا جائے اور ہم کیوں ثواب کے مستحق نہ ہوں۔ اور اگر زنا سے منع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تو معلوم ہوا خدا تعالیٰ نے اس کی ممانعت کا یونہی حکم دیا ہے۔ پہلے اعتراض یعنی تجارت کا جواب یہ ہے کہ اس فعل اور تجارت میں کوئی مناسبت نہیں کیونکہ اخلاق حسنہ کی جزاء خدا تعالیٰ نے پہلے مقرر کر رکھی ہے اور کہہ چھوڑا ہے کہ جو فلاں افعال