انوارالعلوم (جلد 9) — Page 185
انوار العلوم جلد 9 ہیں۔ ۱۸۵ منهاج الطالبين توکل، غفلت اور حیاء کے اخلاق قوت خفاء یعنی پوشیدہ ہو جانے کے مادہ سے ترقی کر کے پیدا ہوتے ہیں۔ استهزاء، مزاح، جھوٹی گواہی، رازداری، جھوٹ، اخفاء کی خاصیت کا غیر مادی ظہور معلوم ہوتے ہیں۔ بعض اخلاق مرکب ہوتے ہیں جیسا کہ حسد، جذب اور افناء سے مرکب ہے اور حقد اعراض اور افتاء سے مرکب ہے۔ بعض اخلاق مختلف حالتوں میں مختلف خاصیتوں کے ماتحت پیدا ہوتے ہیں جیسا کہ مراء اور جدال یعنی ہمت کرنا اور جھگڑنا کبھی اعراض کے ماتحت ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی غرض دوسرے کا دعوی باطل کرنا ہوتا ہے۔ کبھی ہمت اور جھگڑا حق لینے کے لئے ہوتا ہے۔ اس وقت یہ جذب کی خاصیت کے ماتحت ہوتا ہے۔ غرض انسانی اخلاق کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ در حقیقت مادہ کے خواص کی ایک ترقی یافتہ صورت ہیں اور صرف ارتقاء کی حالت میں غیر مادی صورت اختیار کر گئے ہیں اور بعض صورتوں میں مرکب ہو گئے ہیں۔ اس اصل کے ماتحت جو میں نے اُوپر بیان کیا ہے نہ صرف یہ کہ اخلاق کی جڑ اور حقیقت ہی معلوم ہو جاتی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ اخلاق کی برائی اور بھلائی ذاتی نہیں ہے بلکہ ان کے استعمال کی طرز اور موقع سے وابستہ ہے کیونکہ خاصیات اپنی ذات میں نہ بڑی ہیں نہ اچھی۔ مگر اس سے بھی بڑھ کر اس تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کو پیدا کرنے والی ایک ہستی ہے کیونکہ اخلاق کی ایسی گہری جڑ آپ ہی آپ پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ صاف ظاہر ہے کہ ابتدائے عالم سے اس امر کا خیال رکھنا کہ انسان کے دل میں اخلاق کی ایک گہری جڑ قائم کی جائے جس سے وہ آزاد ہو ہی نہ سکے بغیر کسی بالا رادہ ہستی کے فعل کے نہیں ہو سکتا۔ اس نے انسان کی پیدائش کی عرض کو مد نظر رکھ کر اس کے خمیر میں ہی اخلاق کی آمیزش کی تاوہ ہر حالت اور ہر عمر میں اخلاق کے اثر کو قبول کرنے کی قابلیت رکھے اور ان کی طرف اسے فطرتی میلان ہو۔ اعلیٰ اخلاق کا خیال کیوں رکھا جائے؟ اخلاق کی حقیقت کے بیان کرنے کے بعد میں اس سوال کا جواب دینا چاہتا ہوں کہ