انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 171

انوار العلوم جلد 9 ١٧١ منهاج الطالبين صنعتیں جاری ہیں۔ اگر مختلف جگہ کے احمدی تاجر احمدی صناعوں سے اشیاء خریدیں تو ان کی بکری وسیع ہو سکتی ہے اور ان کی آمد زیادہ ہونے کی وجہ سے سلسلہ کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ پس احمدی تاجر احمدی صناعوں سے مال خریدیں اور احمدی گاہک احمدی دکانداروں سے خریدیں تو اس طرح بھی بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔ ہمارے مبلغوں کو بھی اس کام میں مدد دینی چاہئے۔ جہاں جائیں دیکھیں کہ کونسی صنعت کوئی احمدی کرتا ہے اور جب دوسری جگہ جائیں تو وہاں کے لوگوں کو بتائیں کہ فلاں مال فلاں احمدی بناتا ہے اس سے خریدا جائے۔ میرے نزدیک اس پہلو میں ترقی دینے کا ایک آسان طریق یہ بھی ہے کہ مجلس مشاورت کے وقت ایک نمائش بھی ہو جایا کرے جس میں احمد ی صناع اپنی بنائی ہوئی چیزیں لاکھر رکھیں تاکہ دوست واقف ہو جائیں کہ فلاں چیز فلاں جگہ سے مل سکتی ہے اور پھر ضرورت کے وقت وہاں سے منگالیں۔ پھر احمدیوں کو چاہئے کہ بیکار احمدیوں کو ملازم کرانے کی کوشش کریں۔ بعض دوستوں نے اس بارے میں بڑی ہمت دکھائی ہے مگر اکثر سستی کرتے ہیں اسی طرح جماعت کے لوگوں کو چاہئے تجارتی شہروں میں جا کر تجارت اور صنعت سیکھیں۔ اسی طرح ایک ضروری امر پسماندگان کی مدد ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ سب کچھ دین کے لئے قربان کر دو تو جو لوگ اس پر عمل کرتے ہیں ان کے فوت ہونے پر ان کے پسماندگان کے لئے کچھ نہیں بچتا۔ ایسے حاجتمندوں کے لئے ایک فنڈ ہونا ضروری ہے جس میں چندہ دینا لازمی نہ ہو بلکہ مرضی پر ہو اور اس کے لئے ایسا قانون بنا دیا جائے کہ جو اتنا چندہ دے اسے اتنے عرصہ کے بعد اتنی رقم بالمقطع دی جائے گی یا اگر فوت ہو جائے تو پسماندگان کو اتنی رقم ادا کر دی جائے۔ اگر کسی ایسے فنڈ کا انتظام ہو جائے تو پسماندگان کا انتظام ہو سکتا ہے۔ اس کے متعلق میں تفصیلی طور پر اس وقت نہیں بیان کر سکتا۔ میرا ارادہ ہے کہ مجلس مشاورت میں اسے پیش کیا جائے اور اسے ایسے رنگ میں رکھا جائے کہ سود نہ رہے۔ انشورنس نہ ہو اور کام بھی چل جائے۔ مثلاً یہی فیصلہ ہو کہ اس عمر تک پسماندگان کو گزارہ دیا جائے گایا یہ کہ بچوں کو اس قدر تعلیم دلائی جائے گی۔ اس قسم کی تحریکات بھی جماعت کی مالی حالت کی درستی کے لئے ضروری ہیں جن کے متعلق تجاویز سوچی جائیں گی تاکہ شرعی لحاظ سے ان میں کوئی نقص نہ ہو اور پسماندگان کے گزارہ کا کوئی معقول انتظام ہو سکے۔ جس سے ہماری جماعت کے لوگوں کو ایک گونہ اعتماد حاصل ہو سکے کہ ان کے بعد ان کی اولاد خطرہ میں نہ ہو گی گو مومن کا اعتماد تو خدا پر ہی ہوتا ہے۔