انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 157

انوار العلوم جلد 8 ۱۵۷ منهاج الطالبين صورتیں قابل اعتراض تھیں اب کیا کیا جائے۔ آخر سوچ کر سوا اس کے کوئی تدبیر نظر نہ آئی کہ دونوں مل کر گدھے کو اُٹھالیں۔ آخر اسی طرح کیا مگر گدھے نے لاتیں مارنی شروع کیں اور ایک پل پر الٹ کر گر گیا اور ہلاک ہو گیا اور باپ بیٹا ہر دلعزیزی کی خواہش پر افسوس کرتے ہوئے گھر واپس آگئے۔ اس خیال کا مطلب یہ ہے کہ انسان خواہ کچھ کرے اس پر اعتراض ضرور ہوتا رہتا ウー ہماری جماعت میں ایک تو وہ لوگ ہیں جو رات اور دن کہتے رہتے ہیں کہ آپ ہر وقت کام میں لگے رہتے ہیں کسی وقت کام نہیں چھوڑتے اور ایک وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ کام ہی کیا کرتے ہیں ہمیں تو کوئی کام نظر نہیں آتا اگر نظر نہ آنے والوں کی بات کچی ہے اور یہ بیکار بیٹھنے کی علامت ہے تو اللہ تعالیٰ تو کچھ نہ کرتا ہو گا کیونکہ وہ کسی کو کام کرتا نظر نہیں آتا۔ کام کئی قسم کے ہوتے ہیں کچھ دماغی کام ہوتے ہیں اور کچھ جسمانی۔ ایک شخص جو قوم کے غم میں دن رات تدبیریں سوچتا رہتا ہے دیکھنے والا تو اس کے متعلق یہی کہے گا کہ نکما بیٹھا رہتا ہے۔ مگر کیا کوئی عقلمند بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ ایک ٹوکری ڈھونے والا تو کام کرتا ہے مگر دماغی کام کرنے والا نکما بیٹھا رہتا ہے۔ دماغی فکر تو وہ چیز ہے جو ایک دن رات میں انسان کو بوڑھا کر دیتی ہے مگر جسمانی کام انسان کو اور زیادہ طاقتور بناتا ہے حالانکہ دماغی کام نظر نہیں آتا اور جسمانی کام نظر آتا ہے۔ دماغی کام پاس بیٹھنے اور ساتھ رہنے سے معلوم ہو سکتے ہیں۔ جب میں گزشتہ سال ولایت گیا تو کئی انگریز بھی جو ملنے کے لئے آتے گو وہ مسلمان نہ تھے وہ مجھے کام میں مشغول دیکھ کر مشورہ دیتے کہ اس طرح صحت خراب ہو جائے گی آپ کچھ آرام بھی کیا کریں۔ حقیقت حال انسان کو طنے سے ہی معلوم ہو سکتی ہے۔ رسول کریم نے فرمایا ہے۔ خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِيكُمْ کے جس سے ظاہر ہے کہ بیوی کی گواہی خاوند کے متعلق بہت وزن رکھتی ہے۔ اس لئے مسلمان حضرت خدیجہ رَضِيَ اللهُ۔ الله عنها کی گواہی رسول کریم کے متعلق پیش کیا کرتے ہیں۔ ابھی چند دن ہوئے ایک مبلغ کے متعلق میرے پاس شکایت پہنچی کہ اس نے یہ یہ باتیں کہیں ہیں۔ اس پر جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا اور باتیں تو غلط ہیں البتہ یہ میں نے کہا ہے کہ جو آدمی ان کے ساتھ رہے اُس سے کام اس سختی سے لیتے ہیں کہ وہ تنگ ہو جاتا ہے۔ پس میرے کام کا اندازہ ساتھ کام کرنے والے کر سکتے ہیں۔ مجھے خدا تعالٰی نے ایسی عادت ڈالی ہے کہ مجھے بچپن میں بھی مطالعہ کا شوق تھا۔ بچپن سے