انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 156

انوار العلوم جلد و ۱۵۶ منهاج الطالبين بجے سے ۱۲ بجے رات تک ترجمہ قرآن کریم کا کام کرتا ہوں۔ پھر علمی شوق کے لئے ذاتی مطالعہ کرتا ہوں مگر اس کا فائدہ بھی جماعت کو ہی پہنچتا ہے۔ ساڑھے بارہ بجے یا ایک بجے تک یہ مطالعہ کرتا ہوں۔ اس کے بعد جب بستر پر لیٹتا ہوں تو تھکان کیوجہ سے نیند نہیں آتی۔ آنکھوں کے سامنے چیزیں ہلتی ہوئی نظر آتی ہیں کیونکہ تھکان کی وجہ سے اعصاب کانپ رہے ہوتے ہیں اسی حالت میں نیند آجاتی ہے۔ پھر صبح کی نماز کے بعد کام کا یہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ میرا کام ہے جو پچھلے تین چار ماہ سے ہو رہا ہے۔ اسی کام کے دوران میں ہستی باری تعالی کے متعلق جو میں نے ایک جلسہ کے موقع پر تقریر کی تھی اسے قریباً قریباً دوبارہ لکھا ہے۔ اسے دو تین بجے رات تک لکھتا رہتا تھا۔ ان حالات میں جہاں تک میں سمجھتا ہوں میرے وقت میں سے کوئی وقت ایسا نہیں بچتا جب مجھے فراغت ہو۔ کھانا کھاتے ہوئے بھی میں سلسلہ کے متعلق تجاویز اور اہم معاملات پر غور کر رہا ہوتا ہوں اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کھانا کھاتے ہوئے بیویاں یہ سمجھ کر کوئی بات دریافت کر لیں کہ اب یہ فارغ ہے تو باوجود اس طرز کی ناپسندیدگی کے مجھے انہیں خشک جواب دینا پڑتا ہے کہ کیا تم میرے چہرہ سے یہ معلوم نہیں کر سکتیں کہ کسی امر کے متعلق غور و فکر کر رہا ہوں تو بسا اوقات کھانا کھانے کے وقت بھی مجھے غور اور فکر میں ہی مشغول رہنا پڑتا ہے۔ گو طبیب اور حکیم کہتے ہیں کہ اس طرح کھانا کھانے سے کھانا اچھی طرح ہضم نہیں ہوتا مگر جب کسی کو کسی بڑے کام کی فکر لگی ہوئی ہو تو پھر اُسے حکیم کا مشورہ نہیں سوجھتا۔ مجھے اپنے متعلق یہ خیال سن کر کہ میں کیا کام کرتا ہوں اُس ہر دلعزیز کی مثال یاد آگئی جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ کہیں گدھا لے کر جا رہا تھا ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا۔ راستہ میں انہیں کچھ آدمی ملے جنہوں نے کہا کیسے بیوقوف ہیں پیدل جا رہے ہیں اور گدھا خالی ہے۔ سوار کیوں نہیں ہو جاتے۔ یہ سن کر باپ گدھے پر سوار ہو گیا۔ کچھ دور جانے کے بعد کچھ اور آدمی ملے جنہوں نے کہا کہ آج کل خون سفید ہو گئے ہیں دیکھو بیٹا تو پیدل جا رہا ہے اور باپ سوار ہے۔ یہ سن کر باپ اُتر بیٹھا اور بیٹے کو چڑھا دیا۔ تھوڑی دور پر اور آدمی ملے جنہوں نے کہا دیکھو بڑھا تو پیدل جا رہا ہے اور ہٹا کٹا جوان سوار ہے۔ یہ سن کر دونوں نے مشورہ کیا کہ باپ بیٹھتا ہے تو بھی اعتراض ہوتا ہے بیٹا بیٹھتا ہے تو بھی اعتراض ہوتا ہے اب یہی تدبیر ہے کہ دونوں بیٹھ جائیں یہ مشورہ کر کے دونوں گدھے پر بیٹھ گئے۔ آگے چلے تو کچھ اور لوگ ملے انہوں نے کہا شرم نہیں آتی ایک بے زبان جانور پر ہر دو آدمی سوار بیٹھے ہیں۔ یہ سن کر وہ دونوں اُتر بیٹھے اور مشورہ کرنے لگے کہ پچھلی سب