انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 133

انوار العلوم جلد و ۱۳۳ جماعت احمدیہ کا جدید نظام عمل رہ اور چونکہ مسئلہ خلافت کے جماعت کے بنیادی اصول میں شامل نہ ہونے سے جماعت ایسے خطرات میں سکتی ہے جو مبالعین کو غیر مبالعین میں بدل دے اور دس گیارہ آدمیوں کے جنبش قلم سے قادیان معا لاہور بن جائے اس لئے جماعت کے وہ کام جو تبلیغ اور تربیت سے تعلق رکھتے تھے وہ ایک ایسی انجمن کے حوالے نہیں کئے جا سکتے تھے جو خواہ مبائعین کی انجمن ہی ہو اور خواہ بہترین مخلص ہی اس کے ممبر کیوں نہ ہوں اس کے لئے ضرورت تھی کہ ایک ایسا نقطہ قرار دیا جائے جس پر جماعت قائم کر دی جائے تا اسے اس بارے میں ٹھوکر نہ لگ سکے۔ ان حالات کی وجہ سے میں نے اس مشورہ سے جو میری خلافت کے زمانہ میں سب سے پہلے مسجد مبارک میں ہوا میں نے ایک ایسی جماعت تجویز کی کہ تبلیغ کا کام اس کے سپرد رہے اور وہ براہ راست خلیفہ کی نگرانی میں رہے تاکہ سلسلہ کے اصولی کام خطرہ میں نہ ہوں۔ ایک وجہ تو یہ تھی نظارت الگ تجویز کرنے کی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ مجلس کے قواعد کی بنیاد ایسی طرز پر رکھی گئی تھی کہ جماعت کی نمائندگی کو اس میں کوئی دخل نہ تھا۔ سب سے خطرناک حکومت کی صورت یہ سمجھی گئی ہے کہ چند آدمی حکمران ہوں جو خیال کئے جاتے ہوں کہ لوگوں کے نمائندے ہیں مگر دراصل نمائندے نہ ہوں اور جن کے اختیار میں ہو کہ آئندہ اپنے قائم مقام آپ تجویز کر سکیں۔ یہ سب سے خطرناک طرز کی حکومت ہے اور یہ سب باتیں صدر انجمن میں پائی جاتی تھیں۔ اس کے ممبر جماعت کے نمائندے خیال کئے جاتے تھے مگر وہ نمائندے نہ تھے۔ انہیں گلی اختیار تھا کہ اپنے قائم مقام تجویز کرلیں اور جماعت کا کوئی اثر ان پر نہ تھا۔ اس وجہ سے بھی ضروری تھا کہ ایسی بنیاد کام کی رکھی جائے جسے آہستگی کے ساتھ اس طرح بدلا جائے کہ جماعت کی نمائندگی صحیح معنوں میں پائی جائے اور جماعت کے نمائندوں کی رائے کا اثر اس انتظام پر ہو۔ تیسری وجہ جو شروع میں سب سے زیادہ محسوس کی گئی وہ یہ تھی کہ مجلس معتمدین اپنے قواعد کے لحاظ سے براہ راست خلیفہ سے تعلق نہیں رکھتی تھی۔ خلیفہ سے مشورہ لے لینا اور بات ہے اور براہ راست تعلق رکھنا اور۔ مجلس کے کاموں کی یہ صورت تھی کہ وہ ہر معاملہ فیصلہ دے کر میرے سامنے پیش کر سکتی تھی کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے آپ کی کیا رائے ہے۔ اور اپنے قواعد کے لحاظ سے وہ ایسا کر سکتی تھی۔ کیونکہ اس کے لئے کوئی قانون ایسا نہ تھا کہ جس کی وجہ سے وہ کوئی فیصلہ کرنے سے قبل خلیفہ سے اس بارے میں مشورہ لینے کے لئے مجبور ہو یا خلیفہ بعد فیصلہ جو مشورہ دے اس کا ماننا اس کے لئے