انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 132

انوار العلوم جلد 9 ۱۳۲ جماعت احمدیہ کا جدید نظام عمل ان کے علاوہ اور بھی بہت سے ایسے نقائص تھے جن کی وجہ سے ضروری تھا کہ دونوں صیغوں کو جمع کر دیا جائے۔ رہی یہ بات کہ ان کاموں کو علیحدہ کیوں کیا گیا تھا؟ چونکہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے اور ہوا ہے اور ہوتا چلا آیا ہے۔ کئی لوگوں سے میں نے سنا اور دونے تو لکھ کر بھی دیا تھا۔ اس لئے اب میں وہ وجوہات پیش کرتا ہوں جن کی وجہ سے صدر انجمن احمدیہ سے نظارت کو علیحدہ تجویز کیا گیا تھا۔ اول یہ کہ مجلس معتمدین کے بنیادی اصول میں جو دراصل ہے ہی اسلام کا بنیادی مسئلہ خلیفہ وقت کا وجود شامل نہ تھا۔ ایک ریزولیوشن خلافت ثانیہ میں پاس کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو خلیفہ کے گا اسے مجلس مانے گی مگر یہ اصولی بات نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ممبروں کی جماعت کہتی ہے میں ایسا کروں گی۔ لیکن جو جماعت یہ کہہ سکتی ہے وہ یہ بھی تو کہہ سکتی ہے میں ایسا نہ کروں گی کیونکہ جو انجمن یہ پاس کر سکتی ہے کہ ہم خلیفہ کی ہر بات مانیں گے وہی اگر آج سے دس سال بعد یہ کہے کہ نہیں مانیں گے تو انجمن کے قانون کے لحاظ سے وہ ایسا کہہ سکتی ہے یا پھر اگر انجمن یہ کہے کہ اس خلیفہ کی تو ہر بات مانیں گے لیکن دوسرے کی نہیں مانیں گے تو بھی وہ اپنے قواعد کے لحاظ سے حق بجانب ہو گی۔ جس طرح حضرت خلیفہ اول کے وقت میں ہوا۔ پس مسئلہ خلافت جس کے لئے ہمیں ایسی قربانی کرنی پڑی جس کی نظیر نہیں مل سکتی اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے ماننے والے، آپ کے دوست کہلانے والے، آپ سے دیرینہ تعلق رکھنے والے ہم نے اس مسئلہ کی خاطر قربان کر دیئے۔ اگر ان میں اور ہم میں یہ دینی اختلاف نہ ہوتا تو وہ ہمیں اپنی اولاد سے زیادہ عزیز تھے۔ عزیز تھے۔ اپنے عزیزوں سے زیادہ پیارے تھے کیونکہ ان تھے کیونکہ ان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھنے والے اور آپ کے صحابہ میں سے شامل تھے اور آپ کے ساتھ انہوں نے کام کیا تھا۔ اگر یہ اختلاف نہ ہو تا جس کی وجہ سے ہمیں ان سے علیحدہ ہونا پڑا اور یہ سوال پیدا ہوتا کہ ہم اپنے بچوں کو قربان کریں یا ان کو تو میرے دل میں ذرا بھی خیال نہ آتا کہ ان کے مقابلہ میں بچوں کو قربان نہیں کرنا چاہئے۔ مگر چونکہ ایک ایسے معاملہ میں اختلاف ہو گیا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا اور جس کا ماننا ایمان اور جماعت کے لئے ضروری تھا۔ اس لئے وہ جو ہمیں اولاد سے زیادہ عزیز تھے انہیں ہم نے قربان کر دیا۔ پس اس مسئلہ کے لئے ہم نے ایسی عظیم الشان قربانی کی کہ اس کے مقابلہ میں اور کوئی قربانی نہیں ہو سکتی۔ یہ جان کی قربانی سے بھی بہت بڑھ کر ہے۔ کیونکہ جان میں انسان اپنے آپ کو قربان کرتا ہے مگر یہاں ہمیں سلسلہ کے ایک ٹکڑے کو قربان کرنا پڑا۔ اگر اتنی قربانی کے بعد بھی سلسلہ کی حالت غیر محفوظ ہو۔ یعنی چند لوگوں کے رحم پر ہو جو اگر چاہیں کہ خلافت کا انتظام قائم رہے تو قائم رہے اور اگر نہ چاہیں تو نہ رہے تو یہ کبھی گوارا نہیں آیا جا سکتا۔