انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 109

انوار العلوم جلد و ۱۰۹ آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے پروگرام پر ایک نظر آمادہ نہ کرلے۔ چنانچہ اس مولوی نے سب علاقہ میں دورہ کر کے ان لوگوں کو روکا۔ وہ آج پختہ ہندو ہیں اور کل کو ان زمینداروں کا خون چوسیں گے۔ خلاصہ یہ کہ کامیاب تبلیغ کے لئے ہمیں خاص نظام کی ضرورت ہے جس میں ہمیں اس امر کو مد نظر رکھنا ہو گا کہ کسی قوم کو کس ذریعہ سے اسلام کی طرف مائل کیا جا سکتا ہے خالی مبلغ مقرر کر دینا ہرگز کافی نہ ہو گا۔ بوجہ قلت وقت میں اس نظام کو جو میں نے سوچا ہے لکھ نہیں سکا۔ اگر میرے خیالات سے آگاہ ہونے اور ان پر غور کرنے کی ضرورت سمجھی جائے تو میں بعد میں بتا سکتا ہوں۔ مخصوص عقائد کی تبلیغ انجمنوں میں اتحاد اور تقسیم کار کے سوال کے متعلق میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ امید کہ کوئی فرقہ اپنے خیالات کی اشاعت سے باز آجائے تو امید لا حاصل ہے۔ یہ خیال بھی غلط ہے کہ نو مسلموں میں اپنے خیالات نہ پھیلائے جاویں۔ آخر نو مسلم بہرے نہ ہوں گے وہ کسی قلعہ میں قید نہ ہوں گے وہ لوگوں سے ملیں گے اور اختلافات کی باتیں سنیں گے اس وقت وہ ضرور اسی مبلغ سے ہدایت پائیں گے جس نے ان کو اسلام کا راہ دکھایا ہے اور وہ کس طرح ان کو جواب دینے سے پہلو تہی کر سکتا ہے یا اپنے عقیدہ کے خلاف بتا سکتا ہے۔ بہر حال نماز روزہ کی تلقین میں اسے ضرور اپنے پسندیدہ مسائل ہی بتانے پڑیں گے اور اختلاف وہیں سے شروع ہو جائے گا۔ پس صورت اتحاد یہی ہے کہ ہر ایک جماعت اس امر کو تسلیم کرے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ پڑھوانے والا ایک اچھا کام کر رہا ہے خواہ وہ اس کے ساتھ اپنے خیالات بھی منواتا ہو اور دوسری جماعتوں کو اس کے کام سے تعرض نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ کیا رسول کریم ﷺ کو گالیاں دینے والے سے وہ شخص اچھا نہیں جو خواہ خلفاء ثلاثہ کو نہ مانتا ہو۔ امام ابو حنیفہ کا ادب نہ کرتا ہو مگر رسول کریم ﷺ کو راستباز نبی مانتا ہو۔ یا گو مرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام کو مجدد یا نبی یا مسیح موعود تسلیم کرتا ہو لیکن رسول کریم کو آخری شارع نبی اور قرآن کریم کو آخری تشریعی وحی قرار دیتا ہو۔ تقسیم کار کا طریق تقسیم کا کا بہترن علاج یہ ہوگا کہ متلف علاقے مختلف جماعتوں کے سپرد کئے جاویں اور وہ ایک دوسرے ۔ دوسرے کے علاقے میں دخل نہ دیں اور غیر مسلموں کی تبلیغ کو اسی کے سپرد رہنے دیں جس کے سپر د وہ علاقہ ہے۔ مگر یہ سوال حل نہ ہو گا جس وقت تک تنظیم کا سوال نہ حل ہو گا۔ کیونکہ اگر کوئی قوم اس معاہدہ کو توڑ دے گی تو سب کیا کرایا کام دریا برد ہو جائے گا۔