انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 108

انوار العلوم جلد 9 آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے پروگرام پر ایک نظر جائے کہ فوج در فوج لوگ جو کسی مذہب کو قبول کرتے ہیں وہ اس کی روحانی خوبیوں کی وجہ سے نہیں کیا کرتے بلکہ اس کی تمدنی اور سیاسی خوبیوں کی وجہ سے کرتے ہیں اور اس قسم کی قومیں ہمیشہ وہی ہوتی ہیں جو تمھدنا ادنی ہوں یا ان کو ادنی سمجھا جاتا ہو۔ پس تبلیغ کا بہترین میدان ہندوستان کی وہ قو میں ہوں گی جو تمدنا ادنی ہیں یا ادنی سمجھی جاتی ہیں۔ تبلیغ اسلام میں مشکلات لیکن ان قوموں کے متعلق یہ یاد رکھناچاہئے کہ ان پر مسیحی ایک لمبے عرصہ سے اور ہندو کچھ سالوں سے حملہ آور ہو رہے ہیں۔ مسیحیوں کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ اس وقت تک تمیں لاکھ سے زیادہ ایسے آدمیوں میں سے وہ اپنے ساتھ شامل کر چکے ہیں اور اس وجہ سے نئے داخل ہونے والوں کو ان میں ملنا بہ نسبت دوسرے مذاہب کے زیادہ آسان ہے۔ پنجاب میں چار لاکھ کے قریب چوڑھے ہیں جن میں سے نصف کے قریب عیسائی ہو چکے ہیں اور اب عیسائی ہونے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے کیونکہ اب غیر عیسائیوں کو رشتہ کی سخت وقت ہو رہی ہے پس وہ رشتے ناطے کی غرض سے عیسائی ہو جاتے ہیں۔ دوسری فوقیت ان کو یہ ہے کہ ان کے پاس روپیہ ہے۔ وہ ان کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں اور ان کی تمدنی حالت کی درستی کے لئے ان کے واسطے زمیندارہ کا انتظام کرتے ہیں۔ تیسرے پادریوں کے بارسوخ ہونے کی وجہ سے کئی جگہ مجرم پیشہ لوگ مسیحی ہو جاتے ہیں کہ اس طرح جرائم کر کے بھی نسبتا محفوظ رہتے ہیں اور کئی جگہ نمبر دس کے رجسٹر سے نام کٹوانے کا باعث عیسائی ہو جانا ہوا ہے اور ہوتا ہے۔ چوتھے حکومت کا مذہب بھی مسیحیت کی کشش کو ضرور بڑھاتا ہے۔ دوسرے نمبر پر سکھ ہیں اور ان کو یہ فوقیت ہے کہ وہ پنجاب میں بڑے زمیندار ہیں اور چونکہ ادنی اقوام کا بیشتر حصہ زراعت پر گزارہ کرتا ہے وہ مالک زمیندار کے اثر کو قبول کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ پھر سکھ ہندوؤں کی نسبت جلد ان لوگوں کو اپنے اندر شامل کر لیتے ہیں اور چونکہ ان میں بھی ایک لاکھ کے قریب یہ لوگ داخل ہو گئے ہیں رشتہ ناطہ کا سوال روک نہیں ڈالتا۔ مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ ان قوموں کی طرف توجہ نہیں بلکہ وہ ان کے مسلمان ہونے میں اس لئے روک ڈالتے ہیں کہ پھر ہمارے گھروں کی صفائی کون کرے گا۔ چنانچہ ایک علاقہ میں چھ ہزار کے قریب ادنی اقوام کے آدمی اسلام کی طرف مائل ہو رہے تھے کہ ایک مسلمان مولوی کو ایک گاؤں والوں نے مقرر کیا کہ وہ ہمارے واعظ کے پیچھے پیچھے جائے تا وہ ان لوگوں کو مسلمان ہونے پر