انوارالعلوم (جلد 9) — Page 95
انوار العلوم جلد 9 ۹۵ مخالفین احمدیت کے بارہ میں جماعت احمدیہ کو نصیحت یہ بھی کہہ دیتا تھوڑا سا بغض خدا سے رکھنا کہ جبرائیل کو بھیجنے میں اس نے دھوکا کھایا۔ معلوم ہوتا ہے کسی سنی نے یہ قصہ بنایا ہے جس میں اس نے یہ دکھایا ہے کہ اگر شیعوں کے عقیدوں کو تسلیم کیا جائے تو پھر سب سے بغض رکھنا پڑتا ہے۔ کیا ہمارے خلاف ایمانداری سے فتوی لگاتے ہیں یہی حال غیر احمدیوں کے عقیدہ کا اگر ہم ان کے عقیدہ کے خلاف خاتم النبیین کے معنے کرنے سے کافر ہو سکتے ہیں تو پھر ان کا فتوئی سے کافرہو سکتے ہیں پھرار حضرت عائشہ " پر، دیگر صحابہ اور علماء امت پر حتی کہ حضرت محمد رسول اللہ ا پر بھی لگے گا۔ اگر وہ ایمانداری سے ہم پر فتوی لگاتے ہیں تو پھر ان کو چاہئے کہ اس کی پوری پابندی کریں اور پہلے فتوى رسول اللہ ﷺ پر لگائیں۔ ان سے تو وہ طالب علم بڑھ کر نکلا جس نے کہہ دیا تھا کہ محمد رسول اللہ نے نماز میں حرکت ثقیل کی اس لئے ان کی نماز ٹوٹ گئی۔ میں کہتا ہوں اگر وہ اپنے فتوئی کو سچائی پر مبنی سمجھتے ہیں تو پھر ان کو چاہئے کہ وہ حضرت عائشہ ، حضرت مغیرہ ، دیگر آئمہ اور خود آنحضرت ﷺ پر یہی فتوی کیوں نہیں لگاتے کہ وہ بھی خاتم النبین کے ان معنوں کے قائل نہیں تھے جو معنے کہ یہ لوگ کرتے ہیں۔ نبوت و ہبی ہے یا کسی صاحبزادہ ابراہیم کے متعلق جو رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔ لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔ میں اس کے متعلق ایک اور بات بھی بتلاتا ہوں جو غیر احمدیوں اور غیر مبائعین کے لئے مفید ہے۔ وہ کہا کرتے ہیں کہ نبوت کسی نہیں بلکہ وہی ہے ہم کہتے ہیں اگر نبوت محض وہی ہے تو ابراہیم کو زندہ رکھنے میں کیا حرج تھا۔ اس پر موہت نہ کی جاتی اور وہ نبی نہ بنتے۔ مگر رسول کریم کے ارشاد سے ظاہر ہے اگر وہ زندہ رہتے تو اس زمانہ اور عرصہ میں وہ تقویٰ اور طہارت کے اس مقام پر پہنچ جاتے جو نبوت کی موہبت کا جاذب ہوتا ہے۔ پس بے شک نبوت موہت ہے لیکن اس کے لئے کسب شرط ہے جس کے نتیجے میں موہت ہوتی ہے۔ اگر کوئی کسب نہ کرے اور نبوت مل جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ فاسقوں اور فاجروں کو بھی نبوت مل سکتی ہے۔ اگر نہیں تو کیا وجہ ہے ایسے لوگ جن کی پاکیزہ زندگیاں نہیں ان کو نبوت نہیں مل سکتی۔ اور انبیاء کی پاکیزہ زندگیوں کو کیوں ان کی صداقت کی دلیل ٹھرایا جاتا ہے۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ وہب سے پہلے کسب کا ہونا ضروری ہے۔ پس صاحبزادہ ابراہیم کی فطرت بھی ایسی صحیح تھی کہ اگر وہ