انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 94

انوار العلوم جلد 9 ۹۴ مخالفین احمدیت کے بارہ میں جماعت احمد یہ کو نصیحت غیر احمدی مولویوں کے فتوئی کی زد رسول کریم تک پھر ایک اور اشتہار انہوں نے شائع کیا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں۔ مرزا صاحب نے نبی بن کر ہم کو نئی بات کیا بتلائی ہے کہ ہم انہیں مانیں۔ لیکن جس وقت وہ آپ پر کفر کا فتوی لگاتے ہیں اس وقت ان کو یہ خیال کیوں پیدا نہیں ہوتا کہ جب حضرت مرزا صاحب نے کوئی نئی بات نہیں بتائی تو پھر فتوی کس بات پر لگاتے ہیں۔ اگر ہم پر وہ کفر کا فتویٰ اس لئے لگاتے ہیں کہ جو معنی وہ خاتم النبین کے کرتے ہیں وہ ہم نہیں کرتے تو ان کو چاہئے پہلے وہ حضرت عائشہ پر کفر کا فتوی لگائیں۔ پھر حضرت مغیرہ" پر جو کہتے تھے میرے بچوں کو خاتم النبین کی تاء کی زیرہ کے ساتھ قراءت یاد نہ کراؤ۔ پھر اس پر بھی بس نہیں ہو گی بلکہ یہ فتوئی تو اس سے بھی اوپر جائے گا۔ یعنی رسول اللہ اللہ پر بھی ان کے پر بھی ان کو فتوی لگانا پڑے گا۔ کیونکہ جب آپ کو یہ معلوم تھا کہ آپ کے بعد نبی نہیں ہو سکتا تو آپ نے یہ کیوں فرمایا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور نبی ہوتا۔ ایک شیعہ کا قصہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک شیعہ کا قصہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک عمر رسیدہ شیعہ سخت بیمار ہو گیا۔ جب اس کے بچنے کی کوئی امید نہ رہی تو بیٹوں نے درخواست کی کہ آپ ہمیں کوئی ایسا نکتہ بتا جائیں جس سے ہمارا ایمان کامل ہو جائے۔ کہنے لگا صبر کرو، ابھی میں اچھا ہوں۔ جب حالت زیادہ نازک ہو گئی تو بیٹوں نے پھر یاد دہانی کرائی تب اس نے کہا۔ نہایت ہی راز کی بات آج میں تم پر ظاہر کرتا ہوں اور وہ یہ کہ کچھ کچھ بغض تم امام حسن سے بھی رکھنا کہ وہ خلافت سے کیوں دست؟ دست بردار ہو گئے تھوڑی دیر کے بعد پھر بیٹوں نے درخواست کی کوئی اور بات کہنے لگا کچھ کچھ بغض امام حسین سے بھی رکھنا کہ انہوں نے مدینہ کیوں چھوڑا۔ کچھ دیر کے بعد پھر بیٹوں نے درخواست کی کوئی اور نکتہ آر آپ بتائیں۔ کہنے لگا اتنا ہی کافی ہے جو میں نے بتا دیا۔ لیکن جب بیٹوں نے اصرار کیا تو کہنے لگا چھا تھوڑا بغض حضرت علی سے بھی رکھنا کہ وہ شروع میں ہی بزدلی نہ دکھاتے تو خلافت دوسروں کے ہاتھ میں کیوں جاتی۔ اس کے بعد بیٹوں نے پھر اصرار کیا کہ کوئی اور بات بھی بتائیں۔ تو اس نے کہا اچھا تھوڑا بغض رسول کریم ال سے بھی رکھنا کہ انہوں نے جرات کر کے اپنے سامنے ہی کیوں نہ حضرت علی کے ہاتھ پر بیعت کروا دی۔ اس کے بعد بیٹوں نے پھر اصرار کیا تو کہا۔ اچھا کچھ بغض جبرائیل سے بھی رکھنا کہ اس کو تو وحی حضرت علی کے لئے دی گئی تھی وہ بھول کر رسول کریم کی طرف کیوں چلا گیا۔ اس کے بعد وہ فوت ہو گیا۔ اس پر کسی جلے ہوئے سنی نے کہہ دیا اگر وہ تھوڑی دیر زندہ رہتا تو