انوارالعلوم (جلد 9) — Page 89
انوار العلوم جلد 9 ۸۹ مخالفین احمدیت کے بارہ میں جماعت احمد یہ کون نصیحت فیصلہ مولوی صاحبان ہی کریں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ انہی مولوی صاحب سے دریافت کیا جائے۔ اگر ان کے اپنے بیٹے کے متعلق دونوں قسم کے عقائد میں سے ایک اختیار کرنے کا سوال ہو تو وہ اس کے لئے کونسا عقیدہ پسند ہے اختبہ کریں گے۔ کیا یہ کہ وہ نَعُوذُ بِاللهِ رسول اللہ کو فاسق، فاجر ، ڈاکو ، زانی گمراہ تسلیم کرے۔ یا یہ کہ وہ یہ اعتقاد رکھے کہ آنحضرت ﷺ کی امت کے افراد آپ کی غلامی میں نبوت کا مرتبہ بھی حاصل کر سکتے ہیں اور خواہ وہ کتنی بھی آپ کی اتباع میں ترقی حاصل کر جائیں پھر بھی ان کو یہی فخر ہو گا کہ وہ آپ کے غلام کہلائیں۔ وہ باوجود نبی ہونے کے آپ کے خادم ہی ہوں گے۔ پھر میں ہر ایک غیر احمدی سے دریافت کرتا ہوں۔ وہی انصاف سے بتائے کہ ان میں سے اگر کسی کو ایسا موقع پیش آئے کہ اس کے لئے صرف یہی دو راہیں ہوں تو وہ کونسی راہ اختیار کرے گا۔ کیا وہ یہ پسند کرے گا کہ آریہ یا عیسائی ہو کر رسول اللہ ا کا اور آپ کے دین کا دشمن ہو جائے یا وہ اس عقیدے کو تسلیم کر لینا منظور کرے گا کہ آپ کے بعد آپ کے خادموں میں سے نبی ہو سکتا ہے۔ اور وہ نبی ہو کر بھی آپ کا خادم ہی رہے گا اور آپ کے دین کی اطاعت اور اشاعت کرے گا۔ فرض کرو مولوی مرتضی حسن صاحب کے نزدیک، دونوں عقیدے دو گمراہیاں ہیں۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ دونوں میں سے بڑی سے بڑی گمراہی کونسی ہے۔ اور کونسا عقیدہ اپنے بیٹے کے لئے وہ پسند لئے وہ پسند کریں گے۔ اگر تو وہ یہ اعلان کر دیں کہ میں اپنے بیٹے کے لئے یہ پسند کروں گا کہ وہ آریہ یا عیسائی ہو کر رسول اللہ کا اور اسلام کا دشمن ہو جائے۔ وہ بے شک آپ کو تمام انسانوں سے بد تر انسان کہنا شروع کر دے مگر یہ عقیدہ نہ رکھے کہ آپ کی اتباع اور غلامی میں کوئی نبی بھی ہو سکتا ہے۔ تو میں سمجھوں گا کہ انہوں نے جو کچھ کہا دیانتداری سے کہا۔ لیکن اگر وہ ایسا اعلان نہ کریں تو پھر ان کا یہ کہنا جھوٹ یا تعصب ہو گا کہ آریوں اور عیسائیوں سے جو رسول اللہ کو جھوٹا، زانی، فاسق، فاجر خیال کرتے ہیں، ان کی صلح ہو سکتی ہے لیکن احمدیوں سے با وجود آنحضرت ﷺ سے محبت رکھنے اور آپ کے دین کی اطاعت اور اشاعت کرنے کے محض اس وجہ سے ان کی صلح نہیں ہو سکتی کہ وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ کے بعد آپ کی امت میں سے آپ کی اتباع سے نبی ہو سکتا ہے۔ جو نبی ہو کر بھی آپ کا خادم اور غلام ہی رہے گا۔ غیر احمدیوں کے مقابلہ میں دیگر مذاہب کے لوگ اس کے مقابلہ میں ہماری یہ حالت ہے کہ