انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 88

انوار العلوم جلد 9 ۸۸ مخالفین احمدیت کے بارہ میں جماعت احمدیہ کو نصیحت حمدیوں کے عقائد اور آریوں، عیسائیوں کے عقائد عمر اس کی وجہ ہیں صرف یہ ہے کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ا کے بعد آپ کی اتباع اور آپ کی غلامی سے آپ کی امت کا ایک فرد نبی بھی ہو سکتا ہے۔ گویا انہیں اگر ہمارا کوئی بڑا جرم نظر آتا ہے تو وہ یہی ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھتے کہ آنحضرت اللہ کے بعد نبی ہو سکتا ہے۔ جو باوجود نبی ہونے کے آپ کے دین کا خادم اور آپ کا غلام ہی ہو گا۔ اس بناء پر وہ ہم سے دشمنی ! اور عداوت ر رکھتے اور ہمیں کافر اور دجال قرار دیتے ہیں۔ فرض کر لو یہ عقیدہ ایک جرم ہے۔ مگر سوال یہ ہے ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس جرم کا مجرم کہ آنحضرت کے بعد آپ کے متبعین کامل نبوت کے مقام کو پاسکتے ہیں اور باوجود نبی ہونے کے وہ آپ کے غلام ہی ہوں گے جو آپ کے دین کو اور قرآن کریم کے پاک علوم کو دنیا کے کناروں تک پہنچائیں گے اس جرم کے برابر یا اس سے بڑھ کر ہو سکتا ہے جو آنحضرت ا نَعُوذُ بِاللهِ دجال، کذاب، شهوت ران، فاسق اور فاجر قرار دے۔ ان دونوں جرموں کو ایک ادنیٰ سے ادنیٰ عقل رکھنے والے گاؤں کے جاٹ کے سامنے بھی رکھ دیا جائے اور اس سے پوچھا جائے کہ دونوں میں سے بڑی بات کونسی ہے۔ تو وہ یہی کہے گا کہ آنحضرت ا کے بعد اپنی غلامی میں نبوت جاری رہنے کے عقیدہ کے مقابلہ میں یہ جرم بہت ہی بڑا ہے کہ آپ کو علی الاعلان نَعُوذُ بِاللهِ دجال، کذاب، فاسق اور فاجر کہا جائے۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی صحیح الفطرت اور صحیح الدماغ غیر احمدی ایک آن کے لئے بھی اس بات کو ماننے کے لئے تیار ہو کہ وہ لوگ جو آنحضرت کے غلاموں میں اپنے آپ کو شمار کرتے ہیں ہیں اور آپ کے دین کو چاروں طرف دنیا میں پھیلانے والے ہیں اور آپ کی محبت اور آپ کے دین کی اشاعت میں ہر ایک قسم کی قربانی نہایت فراخدلی کے ساتھ کرتے ہیں ان ہے وہ ان لوگوں کو بدرجہا بہتر سمجھے جو کہ آنحضرت ا کو ایک زیادہ بیویاں کر کے نَعُوذُ بِاللهِ شهوت رانی کرنے و رنے والا ، ڈاکو ، زانی، فاسق، فاجر، سچے دین سے کچھ تعلق نہ رکھنے والا قرار دیتے، دنیا میں اسلام کے پھیلنے کو گمراہی کا پھیلنا خیال کرتے اور اسلام اور بانی اسلام سے ہر طرح دشمنی رکھنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ یہی وہ عقیدے ہیں جو آریہ اور عیسائی اسلام اور آنحضرت ا کی نسبت رکھتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ آپ کی امت کا انسان آپ کی غلامی میں نبوت کا مرتبہ حاصل کر سکتا ہے۔