انوارالعلوم (جلد 8) — Page 54
انوار العلوم جلد ۸ ولد قول الحق جھوٹے ہیں مگر یہ معنے نہیں ہو سکتے۔ میں پوچھتا ہوں کیا ان نبیوں نے کوئی نشان دکھائے تھے یا نہیں؟ اگر دکھائے تھے تو پھر یہی معنے ہونگے کہ انکے منکر کہتے تھے جو نشان تو پیش کرتا ہے وہ جھوٹے اور غلط ہیں ان کے علاوہ اور دکھا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے قَدْ بَيَّنَا الْآيَتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ جس قوم میں یقین ہو اس کے لئے تو بہت نشان بیان کئے گئے ہیں لیکن جو یہی کہتی رہے کہ کچھ نہیں ملا حالانکہ اسے نشان دیئے جائیں اور منٹوں کی طرح یہی کہنا جانتی ہو کہ میں نہ مانوں۔ میں نہ مانوں۔ اس کے لئے کہاں سے نشان آئے۔ پس اس زمانہ میں بھی جن لوگوں نے مولویت اور مشیخت کو چھوڑ کر نٹوں اور بھانڈوں کا کام اپنے ذمہ لے لیا ہے اس قوم کے لئے کوئی نشان نہیں ہے۔ مثل مشہور ہے سوتے کو سب جگا سکتے ہیں جاگتے کو کوئی نہیں جگا سکتا۔ چونکہ یہ لوگ دل سے ٹھان لیتے ہیں کہ نبیوں کا مقابلہ کرنا سچے اور جھوٹے نبی کی پہچان ہے اس لئے انکار پر کمر باندھ لیتے ہیں اور ہر بات کا انکار کرتے جاتے ہیں ورنہ دیکھو بچے اور جھوٹے نبی کی پہچان نہایت آسان ہے کیونکہ قرآن کریم نے یہ بتا دیا ہے کہ نبی پہلے نبیوں کے مثیل ہوتے ہیں اور کافر پہلے کافروں کے۔ اس معیار کے مطابق حضرت صاحب کے زمانہ کے متعلق دیکھ لو کس کی جماعت کس سے ملتی ہے حضرت صاحب کی عادات اور طریق نبیوں سے ملتا ہے یا جھوٹوں۔ جھوٹوں سے اور آپ کو نہ ما۔ آپ کو نہ ماننے والوں کی عادات اور عادات اور طریق پہلے نبیوں کے ماننے والوں سے ملتے ہیں یا کافروں سے ۔ جس رنگ میں یا جس طریق سے یہ مولوی حضرت صاحب سے استہزاء کرتے رہے اور جن باتوں پر کرتے ہیں قرآن اور حدیث میں کیا یہ طریق نبیوں کا اور ان کے ماننے والوں کا ہے ؟ کوئی یہ تو ثابت کرے کہ نبی کریم ا لوگوں سے استہزاء کرتے تھے یا کوئی یہ تو ثابت کرے کہ حضرت موسیٰ یا حضرت عیسی یا حضرت نوح استہزاء کرتے تھے۔ پھر کوئی یہ ثابت کرے کہ جس طرح یہ لوگ تمسخر اور استہزاء کرتے رہے ہیں حضرت مسیح موعود نے بھی ایسا کیا۔ ہرگز نہیں۔ اگر نہیں اور ٹھٹھا کرنے والا کوئی گروہ ہو گا تو نبیوں کا دشمن ہی ہو گا نبی ہمیشہ سنجیدگی اور متانت سے لوگوں کو اپنی طرف بلائے گا۔ نبیوں کے دشمن نبی کے ماننے اور نہ ماننے والوں کے طریق عمل میں فرق استہزاء سے کام لیتے ہیں اور نبی اور اس کے ماننے والے سنجیدگی سے کام لیتے ہیں کیونکہ خدا ان کے متعلق کہتا ہے۔ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ " کہ خدا کے ذکر پر ان کے دل نرم ہو جاتے ہیں