انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 629 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 629

انوار العلوم جلد ۸ ۶۲۹ دورہ یورپ کرتا ہوں کہ خداوند خفا نہ ہوں۔ تب میں فقط اب کی بار پھر کہوں ۔ شاید وہاں دس پائے جائیں۔ وہ بولا۔ میں اس کے واسطے بھی اسے نیست نہ کروں گا۔ ۸۰ اس سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ نیک بندوں کے اپنی قوم سے تعلقات قائم رہتے ہیں۔ اور ان کی وجہ سے قوم عذاب الہی سے بچ سکتی ہے حضرت مسیح موعود کے الہام میں ” جو کاٹا گیا" کے الفاظ ہیں۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کے لئے ایک وقفہ ہے جس کے بعد اس کے لئے عذاب مقدر ہے ورنہ شہید اپنی قوم سے کاٹے نہیں جاتے بلکہ ان کا تعلق قائم رہتا ہے۔ یہ قطع تعلق وقفہ پر دلالت کرتا ہے اور اس سے ا دلالت کرتا ہے اور اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ وقفہ ہو جس میں آب پاشی ہو ۔ اور اور شاخ یہ رشاخیں پیدا : ں پیدا ہوں۔ پھر اس سے یہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ شاخیں یہاں تیار ہوں کیون؟ وں کیونکہ یہ کہا گیا ہے کہ اس شاخ کو یہاں لگا دو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بارے میں سکیم یہاں سے تیار کر کے بھیجنی پڑے گی۔ پس یہ رویا نہ صرف ایک عظیم الشان واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور یہ الہام نہ صرف ایک اور واقعہ شہادت کی طرف اشارہ کرتا ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ ایک وقفہ ہو گا اور اس بارے میں یہاں سکیم تیار کرنی چاہئے ۔ اب موجودہ زمانہ میں ایسا ہی ہے۔ گو مولوی نعمت اللہ خان صاحب شہید کا واقعہ ایسا دردناک واقعہ ہے کہ جب بھی اس کی طرف خیال کیا جائے طبیعت بے چین ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر کام کرنے والا انسان ہو تو اس کا فرض ہے کہ اپنے جذبات کو سنبھالے اور انہیں قابو میں رکھے ۔ اسی طرح اگر کسی قوم نے کام کرنا ہو تو اس کے لئے بھی ضروری ہے کہ اپنے جذبات اور احساسات کو روک کر رکھے۔ آنکھوں کے آنسو خدا تعالیٰ نے ایسا پانی پیدا کیا ہے کہ جو دل کی آگ کو بجھائے مگر جب انسان کا منشاء یہ ہو کہ دل کی آگ کو بجھانا نہیں بلکہ اور زیادہ بھڑکانا ہے تو ضروری ہے کہ آنسوؤں کو روکے ۔ بے شک بچہ کی موت پر انسان رو سکتا ہے کیونکہ بچہ کی یاد کو قائم رکھنے والی کوئی چیز نہیں اور اس وجہ سے اس کی موت نے جو آگ پیدا کی ہے اسے بجھنے دینا چاہئے۔ اسی طرح میاں بیوی کے مرنے پر اور بیوی میاں کے مرنے پر رو سکتے ہیں اور اپنی آنکھ کے آنسوؤں سے برائی کی آگ کو کم کر سکتے ہیں۔ مگر وہ شخص جس نے خدا کو جان دی اور جو خدا کے رستہ میں مارا گیا اس کے نام اور کام کو کبھی نہیں بھلایا جا سکتا اس کا یا درکھنا ہمارا فرض اور بہت بڑا فرض ہے ۔ اور جن لوگوں نے نہیں ، میں اس بات کا قائل نہیں ، جن خیالات اور احساسات نے ، جس گندی تربیت