انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 627 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 627

انوار العلوم جلد ۸ ۶۲۷ دورہ یورپ حضرت مسیح کے زمانہ کی قربانیوں کا نمونہ سوائے احمدیوں کے اور کہیں نہیں ملتا اس امر کا اعتراف کرنا ہے کہ ویسا ہی انسان اس زمانہ میں پیدا ہوا ہے جس کی تربیت سے ویسے ہی شہید پیدا ہو رہے ہیں جیسے حضرت مسیح کی تعلیم سے پیدا ہوئے تھے ۔ اور یہ انسان حضرت مسیح کے مشابہ ہے ۔ گویا ان لوگوں نے زبان سے تو حضرت مسیح موعود کی صداقت کا اعتراف نہیں کیا مگر جب انہوں نے کہا کہ حضرت مسیح کے زمانہ کی قربانیوں کا نمونہ جماعت احمد یہ میں نظر آتا ہے تو حضرت مسیح موعود کے مثیل مسیح ہونے کا اقرار کر لیا۔ یہ تو اس واقعہ کا موجودہ اثر ہے ۔ آئندہ کے لئے میرے نزدیک یہ واقعہ اور بھی زیادہ اثر اور اہمیت پیدا کرنے والا ہے اور اس کے متعلق حضرت مسیح موعود کی ایک پیشگوئی بھی ہے۔ جس کی طرف اب میرا خیال نہیں گیا بلکہ جب وہ شائع کی گئی تھی اسی وقت میرا یہی خیال تھا جواب ہے ۔ وہ پیشگوئی یہ ہے حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام تذكرة الشهادتين صفحہ ۵۵ میں سید عبد اللطیف صاحب شہید کے واقعہ شہادت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ میں نے ایک کشفی نظر میں دیکھا کہ ایک درخت سرو کی ایک بڑی لمبی شاخ جو نہایت خوبصورت اور سرسبز تھی ہمارے باغ میں سے کاٹی گئی ہے ۔ اور وہ ایک شخص کے ہاتھ میں ہے ۔ تو کسی نے کہا اس شاخ کو اس زمین میں جو میرے مکان کے قریب ہے ، اس بیری کے پاس لگا دو جو اس سے پہلے کاٹی گئی تھی اور پھر دوبارہ آگے گی۔ اور ساتھ ہی مجھے یہ وحی ہوئی کہ کابل سے کاٹا گیا۔ اور سیدھا ہماری طرف آیا۔ ۷۹ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب کی شہادت کے بعد ہوا اور اس میں ایک خبر دی گئی ہے۔ جب یہ الہام لکھا گیا اس وقت بھی اور بعد میں بھی جتنی دفعہ میں نے اسے پڑھائی سمجھا کہ یہ اور واقعہ کے متعلق ہے صاحبزادہ صاحب مرحوم کے متعلق نہیں ہے کیونکہ وہ تو شہید ہو چکے تھے ۔ اور جب شہید ہوئے ہماری طرف ہی تھے اس وجہ سے میرا خیال تھا کہ کوئی اور واقعہ ہو گا۔ چنانچہ اب جب کہ مولوی نعمت اللہ خان صاحب کی شہادت کا واقعہ ہوا تو خداتعالیٰ نے سامان بھی ایسے پیدا کئے کہ وہ مقبرہ بہشتی جس کے بنانے کی یہ غرض ہے کہ جماعت کے صلحاء اس جگہ جمع ہوں، اس میں شہید کا کتبہ لگا دیا گیا۔ اور اس طرح ثابت ہو گیا کہ موجودہ زمانہ میں صلحاء جہاں جمع ہیں، وہاں اسے لایا گیا۔ پھر حضرت مسیح