انوارالعلوم (جلد 8) — Page 586
انوار العلوم جلد ۸ ۵۸۶ دورہ یورپ کی گم شدہ بھیڑوں کے لئے آیا مگر آنحضرت ا کی دعوت عالمگیر تھی وہ گل نوع انسان کے لئے ہمیشہ کے لئے نہی ہو کر آئے۔ مسیح موعود کا مسیح سے افضل ہونے کا مسئلہ بھی مشکل نہیں قرآن کریم ایک اصل بتاتا ہے کہ مذہب سوسائٹی کی ترقی کے ساتھ ترقی کرتا ہے اور ایک قسم کا ارتقاء مذہب میں بھی ہوتا رہتا ہے اور وہ ارتقاء خدا تعالیٰ کے خلفاء کے ذریعہ ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ سے وحی پاکر پیش کرتے ہیں ۔ پس جو پہلے کے بعد آئے گا وہ یقیناً اس سے اس حالت موجودہ کے لحاظ سے افضل ہو گا۔ لیکن احمد کی فضیلت در اصل آنحضرت اللہ ہی کی فضیلت ہے کہ آپ کی تعلیم اور اس کے اثر سے اس کے غلاموں میں مسیح کے مقام کو پالیتا ہے بلکہ اس سے بڑھ جاتا ہے۔ نبی دو قسم کے ہوتے ہیں یا تو شریعت لے کر آتے ہیں اور یا وہ پہلے نبی کے متبع ہوتے ہیں۔ شریعت چونکہ آنحضرت ا پر ختم ہو گئی اور آپ ایسی کامل شریعت اور کتاب لائے کہ اب قیامت تک کی انسانی اخلاقی اور روحانی ترقیات کے لئے اس میں اثر اور قوت موجود ہے اس لئے آئندہ خدا کے روحانی فضل اور برکت کو آنحضرت اللہ کی اتباع کے ساتھ مخصوص کر دیا گیا اور حضرت احمد نے آپ ہی سے پایا اور اب احمد کے متبعین احمد کی بتائی ہوئی راہ پر چل کر ان برکات اور فضلوں کو حاصل کر رہے ہیں۔ اور وہ برکات اب مسیح کے متبعین میں نہیں ہیں۔ ان کو بارہا اس مقابلہ کے لئے حضرت مسیح موعود نے بلایا اور کوئی سامنے نہیں آیا اور اب بھی نہیں آسکتا۔ پس مسیح موعود کے ثمرات جاری ہیں اور مسیح کے ختم ہو چکے اس سے مسیح کی پوزیشن سمجھ میں آجاتی ہے۔ ایک سپر چولسٹ :- کیا مسیح موعود احمد میں مسیح کی مسیح موعود اور حضرت مسیح کی روح روح آگئی تھی یا اس کے روح کے اثر کے نیچے مسیح موعود کام کرتے تھے ؟ حضرت صاحب : ہم تناسخ کے قائل نہیں ہیں کہ یہ تسلیم کریں کہ مسیح کی روح مسیح موعود میں آگئی اور نہ ہم اس بات کے قائل ہیں کہ ان کی روح کے اثر کے نیچے وہ کام کرتے تھے ۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ جو روح چلی جاتی ہے وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آتی اور نہ اس روح میں یہ طاقت ہوتی ہے کہ وہ دوسرے پر اثر ڈال سکے ہم تو خدا پر ایمان رکھتے ہیں وہ نبیوں سے کلام کرتا ہے اور جب وہ کسی شخص کو کسی پہلے شخص کے نام پر بھیجتا ہے تو اس کی روح میں ہی وہ قوت اور