انوارالعلوم (جلد 8) — Page 581
انوار العلوم جلد ۸ ۵۸۱ دورہ یورپ حضرت مرزا صاحب کے متعلق ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ جس طرح پر حضرت موسیٰ ، حضرت ابراہیم اور حضرت عیسیٰ عَلَيْهِمُ السّلامُ نبی تھے اسی طرح مسیح موعود بھی نبی تھے ۔ ہاں ان کے متعلق ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ یہ نبوت ان کو آنحضرت ا کی کامل اتباع اور فرمانبرداری کے طفیل ملی تھی اور ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ وہ مسیح موعود ہے جس مسیح کی آمد کا وعدہ عیسائیوں کو دیا گیا تھا یا اسلام میں جس کی بشارت تھی وہ مرزا احمد ہی تھے اب کوئی اور موعود نہیں آئے گا اور مسیح کی قوت و روحانیت میں آئے تھے یہ نہیں کہ مسیح کی روح ان میں آگئی تھی پس ہم حضرت مسیح موعود کے متعلق دو باتوں پر ایمان رکھتے ہیں ایک یہ کہ وہ نبی تھے دوسرے وہ مسیح کی سپرٹ اور طاقت لے کر آئے تھے۔ جب انسان کو خدا بنایا گیا یعنی مسیح کے متعلق لوگوں نے مبالغہ کر کے اس کو خدا قرار دیا تو خدا تعالیٰ کی غیرت نے تقاضا کیا کہ وہ دنیا پر مسیح کی حقیقت کو واضح کرے چنانچہ اس نے آنحضرت اللہ کے ایک خادم اور متبع کو یہ عزت دی کہ وہ مسیح موعود ہوا اور نبی اللہ ہو کر آیا تا کہ مسیح کی پوزیشن واضح ہو جائے ۔ اس مقام پر ایک عورت عورت نے سوال کیا۔ کیا آپ ایمان ایک عورت کے سوال کا جواب رکھتے ہیں کہ یہ سپرٹ پھر آئے گی ؟ حضرت صاحب :- موعود کا جہاں تک تعلق ہے وہ پورا ہو چکا ہے ہاں اس کی روح اور قوت میں کوئی اور بھی آسکتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے بیٹی کا آنا تھا کہ وہ ایلیا کی روح اور قوت لے کر آئے ۔ حضرت مسیح سے خود یہ سوال ہوا ہے۔ یہودیوں کا ملا کی نبی کی کتاب کے وعدہ کے موافق یہ عقیدہ تھا کہ ایلیا دوبارہ آئے گا چنانچہ انہوں نے جب مسیح کا دعوئی سنا تو انہوں نے مسیح سے ایلیا کے آنے کے متعلق پوچھا۔ مسیح نے میں جواب دیا کہ وہ آنے والا تو آچکا ہے اور وہ یوحنا بپتسمہ دینے والا ہے ۔ ۱ مسیح نے اس طرح پر دوسری آمد کا خود فیصلہ کر دیا کہ کسی کے دوبارہ آنے سے خود اس کا ہی آنا مراد نہیں ہو تا بلکہ کوئی دوسرا شخص اس روح اور قوت سے آتا ہے۔ ایسا ہی مسیح نے متی کی انجیل میں یہ بھی کہا کہ تم مجھے دوبارہ نہ دیکھو گے اور پھر کہا ہے مبارک ہے وہ جو آ۔ آپ کے نام سے آئے ۔ اس میں بھی مسیح نے بتا دیا ہے کہ نے بتا دیا ہے کہ مسیح کی دوبارہ آمد سے مراد روحانی آمد تھی نہ کہ خود اپنا آنا ۔ جو لو انہ کہ خود اپنا آنا۔ جو لوگ یہ خیال کر بیٹھتے ہیں کہ مسیح دوبارہ آئے گا وہ غلطی پر ہیں ۔ اگر قیامت تک بھی انتظار کریں تو وہ نہیں آئے گا۔ آنے والا آچکا اور مبارک وہ جو اس کو قبول کرتا ہے کیونکہ وہ خدا کی بادشاہت میں داخل ہو گا اور میں اس آنے والے کا دوسرا خلیفہ