انوارالعلوم (جلد 8) — Page 578
انوار العلوم جلد ۸ ۵۷۸ دورہ یورپ سے دنیا کی یکرنگی جاتی رہتی ہے اور مختلف رنگ نظر آنے لگ گئے ہیں اور کئی چیزوں کی میل اور گندگی ظاہر ہو گئی ہے ۔ اگر سورج کے نکلنے پر یہ اعتراض نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ اختلاف کو مہیا نہیں کرتا بلکہ اختلاف کو ظاہر کر کے اس کے دور کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ جس قدر نبی آئے ہیں پہلے ان کے زمانہ میں اختلاف ہوا ہے پھر ان کے ذریعہ اتحاد ہوا ہے اگر وہ نہ آتے تو اتحاد بھی کبھی نہ ہوتا۔ غرض اے عزیزو! اگر ایک مدعی کی سچائی ظاہر ہو جائے تو اس قسم کے شبہات کی وجہ - وجہ سے اس کے ماننے میں پیچھے نہیں رہنا چاہئے ۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ مسیح موعود کے ذریعے سے خدا تعالیٰ نے کیا کچھ کیا ہے کہتے ہیں کہ مسلمان ہیں کروڑ سے زیادہ ہیں مگر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ان میں کروڑ کو اسلام کی خدمت کی وہ توفیق نہیں ملی جو مسیح موعود علیہ السلام کی پیدا کر وہ قلیل جماعت کر رہی ہے۔ یہ امر اس امر کا ظاہر ثبوت ہے کہ اسلام کا مستقبل مسیح موعود کے ساتھ وابستہ ہے اور ہر شخص جو اسلام سے انس رکھتا ہے اس کا فرض ہے کہ اس کی جماعت میں داخل ہو کر اس ذمہ داری کو پورا کرے جو ہر فرد بشر پر خدا تعالیٰ کی طرف سے عائد کی گئی ہے بے شک تکالیف ہوں گی اور لوگوں کے طعنے بھی سُننے ہوں گے مگر ہر ز ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ کا زما را تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے یہ باتیں لازم رہی ہیں اور آپ اس سے بچ نہیں سکتے۔ ان قربانیوں کے مقابلہ میں جو ہمیں سچائی کے قبول کرنے میں کرنا پڑی ہیں اس عظیم الشان نتیجہ کو نہیں بھولنا چاہئے جو ان قربانیوں کے بعد نکلے گا۔ اور اگر کوئی نتیجہ بھی نہ نکلے تو کیا ہمارا فرض نہیں کہ ہم جو کچھ منہ سے کہتے یا دل میں سمجھتے ہیں اس کی سچائی کو اپنے عمل سے ثابت کر دیں ؟ اے عزیزو! میں نے خدا تعالیٰ کا پیغام آپ کو پہنچا دیا ہے ۔ اور اب میں خدا تعالیٰ کے سامنے بری الذمہ ہوں۔ میں جب اللہ تعالی کے تخت کے سامنے اپنی دنیاوی زندگی کو پورا کر کے حاضر ہوں گا تو میں اس سے کہوں گا کہ اے میرے رب میں نے تیرا پیغام کھلے لفظوں میں سنا دیا تھا اس کا منوانا میرے اختیار میں نہ تھا۔ جو لوگ آپ میں سے ایسے ہوں کہ ابھی ان پر مسیح موعود کی سچائی نہ کھلی ہو ان کو میں اس ذریعہ تحقیق کی طرف توجہ دلاتا ہوں جسے خود مسیح موعود نے تجویز کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ متواتر کئی دن تک خدا تعالیٰ سے دعائیں کر کے سوئیں کہ اے خدا! اگر یہ شخص سچا ہے تو اس کی سچائی ہم پر کھول دے ۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو یقیناً خدا تعالیٰ مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی ان کے دل پر کھول دے گا کیونکہ وہ اپنے بندوں کو گمراہ کرنا نہیں چاہتا بلکہ ان