انوارالعلوم (جلد 8) — Page 565
انوار العلوم جلد ۸ ۵۶۵ دورہ یورپ اس کا کوئی نقص ہے اور وہ ماتحت کام نہ کرتا ہو تو اس کی اطلاع فوراً مرکز کو کرنی چاہئے اور بتانا چاہئے کہ کیا نقص ہے ؟ یہاں کے انچارج ہمیشہ ایک غلطی کرتے رہے ہیں کہ اپنے آپ کو ایک مستقل چیز سمجھتے رہے ہیں۔ سلسلہ کو بھی ایسی اطلاع نہیں دی جس سے معلوم ہو کہ کیا غلطی ہو رہی ہے ۔ لکھا تو یہ لکھ دیا کہ فلاں سے غلطی ہوئی اللہ معاف کرے مگریہ نہ بتایا کہ کیا غلطی ہوئی۔ گویا وہ خود ہی ایک مستقل چیز تھے مرکز کے لئے ضروری نہیں کہ اس سے واقف ہو ۔ یہ غلطی پہلوں نے کی ہے آئندہ نہیں ہونی چاہئے ۔ مبلغ کا فرض ہے کہ ہر حالت کا اور ایک ایک بات کا نقشہ بھیجے خواہ مخالف کے متعلق ہو یا موافق کے اور ان کا فرض ہے کہ اپنی موافق اور مخالف ہر قسم کی کوششوں کا علم رکھیں۔ رسول اللہ ا اس قدر خیال رکھتے تھے کہ قرآن شریف میں اللہ تعالی نے بعض کا قول نقل کیا ہے کہ وہ کہتے تھے۔ هُوَ أُذُنٌ ۱۳ نبی کریم الله تو کان ہی کان ہیں یہ امر ظاہر کرتا ہے وہ تھے۔ ہے کہ نبی کریم ا کس قدر محتاط اور باخبر تھے اور آر تھے اور آپ کا یہ نمونہ اسی لئے ہے کہ مومن اس طرح ہو شیار اور باخبر رہے۔ لوگوں کو یہ کہہ دینا کافی نہیں ہوتا کہ یہ جھوٹ ہے غلط ہے وہ اس سے زیادہ چاہتے ہیں۔ سنی سنائی بات نہ ہو واقعات سے اس کی تائید ہو۔ غرض کوئی بات ہو مخالف ہو یا موافق وہ مرکز میں لکھنی چاہئے بغیر اس کے صحیح ہدایات نہیں مل سکتیں اور کام کا نقصان ہوتا ہے پس پہلے اگر یہ غلطی ہوئی ہے تو آئندہ نہیں ہونی چاہئے۔ مبلغ کے فرائض میں یہ بات بھی ہے کہ وہ سوشل ہو اور لوگوں سے اپنے تعلقات کو بڑھائے ۔ اس معاملہ میں بھی اب تک مبلغین سے ایک غلطی ہوئی ہے کہ انہوں نے سوسائٹی کے اعلیٰ طبقہ کو چھوڑ دیا اور انہوں نے اس کی طرف توجہ ہی نہیں کی اور کوشش ہی نہیں کی کہ ان سے ملیں اور اپنے تعلقات کو بڑھائیں۔ کسی کام کی عمدگی کا اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ اس کے کام کو کیا سمجھتے ہیں اور جس قسم کی سوسائٹی میں وہ کام کرتا ہے اس پر اثر پڑتا ہے ۔ آنحضرت ا نے دیکھا کہ ایک مسلمان دشمن کے سامنے اکثر کر چلتا تھا آپ نے فرمایا کہ اکڑ کر چلنا اچھا نہیں مگر اس کا چلنا خدا کو پسند ہے ۔ بعض اوقات دکھانا بھی ضروری ہوتا ہے ۔ غرض تعلقات کے بڑھانے میں سوسائٹی کے اعلیٰ