انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 564

انوار العلوم جلد ۸ ۵۶۴ دورہ یورپ سے پیدا ہوتی ہے۔ غلطی کا امکان تو ہر شخص سے ہوتا ہے ۔ خدا تعالیٰ کی ذات کے سوا اور کون ہے جس سے غلطی کا امکان نہ ہو ۔ بشریت کے لحاظ سے یہ ہر شخص سے ممکن ہے اور جہاں غلطی کا امکان ہو وہاں انسان اگر اطاعت کرتا ہے تو حقیقت میں ایمان کی وجہ سے ہی کرتا ہے اور وہ ایمان اس میں نشاط پیدا کر دیتا ہے۔ اگر سینہ میں تنگی ہو تو اپنی کمزوری ہے ۔ آنحضرت ﷺ کو احد کی جنگ میں تکلیف ہوئی اور اس لڑائی میں منافقوں نے جو مشورہ دیا دراصل وہ صحیح ثابت ہوا۔ مگر صحابہ کی جو رائے تھی وہ اس کے خلاف تھی اس لئے آنحضرت ا نے اس موقع پر مجارٹی (MAJORITY) کے فیصلہ کو ترجیح دے دی آپ کے اس طرز عمل سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں ۔ اول یہ کہ غلطی کا امکان ہر شخص سے ہے۔ دوم افسر یا مجارٹی جس بات کا حکم دیں اس کی تعمیل کی جاوے اور نشاط سے کی جائے قرآن مجید اسی بات پر زور دیتا ہے اور کامیابی کی روح اسی سے پیدا ہوتی ہے۔ ہمیشہ اس بات کو مد نظر رکھو کہ انسان اپنے وطن اور عزیزوں سے دور آتا ہے ہر قسم کی قربانی کرتا ہے پھر اس کی محنت اور کام کا کوئی نتیجہ نکلنا چاہئے ۔ جو لوگ یہاں کام کرتے رہے ہیں ان سے بعض کوتاہیاں ہوتی رہیں اور اس وجہ سے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مرکز میں پورا احساس نہ ہو لیکن اب انشاء اللہ یہ نہیں ہو گا۔ مرکز میں احساس قدر تا اب بہت زیادہ ہو گا اس لئے اب یہ کام زیادہ نتیجہ خیز نہ ہو تو یہ مبلغین کی غلطی ہو گی اور وہ اس کے ذمہ دار اور جوابدہ ہوں گے اس لئے کہ یہ ممکن نہیں کہ صحیح طریق پر کوشش ہو اور کوئی نتیجہ نہ نکلے ۔ مولوی عبد الرحیم صاحب کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ جس کے ساتھ کام کرنا ہو اس کے جذبات کا خیال رکھیں ۔ محبت کے ساتھ ان سے کام لیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بے جا طور پر کسی بات کو نظر انداز کر دیا جائے۔ یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ یہ سلسلہ کا کام ہے۔ اگر اس میں ذرا بھی غفلت سے کام لیا جاوے تو بہت بڑا نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اور میں یہ جانتا ہوں کہ اگر کوئی بات آپ کے منشاء کے خلاف کرے تو آپ اس کو کہہ نہیں سکتے میں اس کو بُزدلی کہتا ہوں۔ کہتا ہوں۔ یہ بات نہیں ہونی چاہئے ۔ یہ ذاتی کام نہیں کہ اس میں انسان اگر نظر انداز کر دے تو کچھ بات نہیں مگر اس سے سلسلہ کے انتظام انتظام پر اثر پڑتا ہے ۔ ذمہ داری یہ ہے کہ انسان کام لے ۔ اخلاق کا کمال یہ نہیں کہ کام نہ ہو تا ہو اور افسر خاموش رہے۔ ایسے موقع پر یہی اخلاق ہے کہ اپنے ماتحت سے باز پرس کرے مگر اس میں اخلاق اور محبت کے پہلو کو ترک نہ کرے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر