انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 536

انوار العلوم جلد ۸ ۵۳۶ دورہ یورپ کرانے کی کوشش کریں گے تو لوگ اس کو بد نیتی پر محمول کریں گے۔ ایک حقیقی فائدہ کو نظر انداز کر کے ایک خیالی خطرہ کی اتباع کرنا صرف بزدلوں کی علامت ہے۔ اب مسٹر گاندھی نے فاقہ کشی کاڈراوا دیا ہے اور یقینا ملک کے اکثر لوگ محسوس کریں گے کہ گورنمنٹ فساد چاہتی تھی مگر مسٹر گاندھی نے اپنی جان کی قربانی دے کر ملک کو بچالیا۔ گو بہت سی باتیں ہیں جن کی اصلاح سے موجودہ حالت کو بدلا جا سکتا ہے مگر انگریز افسر کیسا ہو ان کو ایک لیکچر میں بیان نہیں کیا جا سکتا اس لئے میں صرف ایک بات کو بیان کر دیتا ہوں جو گورنمنٹ سے نہیں بلکہ اقوام سے تعلق رکھتی ہے۔ میرے نزدیک اس وقت سب سے زیادہ جو اس فساد کی اصلاح میں مدد دے سکتا ہے وہ فرد ہے نہ کہ گورنمنٹ۔ انگریز افسر جو ہندوستان کو بھیجا جاتا ہے اس کے ذہن میں اس بات کو اچھی طرح ڈالنا چاہئے کہ اب ہندوستانیوں کے احساسات بدل گئے ہیں اب ایک حاکم باپ کی طرح حکومت نہیں کر سکتا اب وہ ایک بھائی کی طرح اپنی بات منوا سکتا ہے۔ آج سے پہلے ہندوستانی انگریز افسر کو ماں باپ کہتا تھا اب وہ باہر کے خیالات سے متأثر ہو کر اس کو بھائی کی شکل میں دیکھنا چاہتا ہے اور چاہئے کہ انگریز افسر جو ہمیشہ اپنے ملک کے فوائد کو مد نظر رکھ کر ضرورت زمانہ کے مطابق اپنے حالات بدلتا رہا ہے اب برادرانہ سلوک کو اختیار کرے اور عوام الناس میں مل کر رہے۔ وہ لوگوں سے زیادہ تعلق پیدا کرے۔ وہ اپنی افسریت کے خیال کو ترک کر کے اصرار اور سمجھانے سے کام لے وہ ان کی دعوتوں ، ان کی مجلسوں اور ان کی خوشیوں اور غمیوں میں شامل ہو اور اس پرانے ریز رو کو جس کا وہ عادی رہا ہے ترک کردے تاکہ ہندوستانی اسے صرف اپنا خیر خواہ ہی نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنے ہی میں سے خیال کریں۔ اسی طرح چاہیئے کہ انگلستان کے لیکچرار اور اخبار اپنی انگلستان کے اخبارات کیا کریں تقریروں اور تحریروں میں ہندوستانیوں کے احساسات کا خیال رکھیں بعض معمولی باتیں بڑے نتائج پیدا کر دیتی ہیں۔ میرے نزدیک اس قدر ایجیٹیٹر کو کسی اور چیز نے فائدہ نہیں دیا جس قدر کہ بعض انگریزی لیکچراروں کی تقریروں اور بعض نامہ نگاروں کی تحریروں نے ۔ ایک ہندوستانی جس وقت یہ پڑھتا ہے کہ اس کے ہم و وطنوں کو بُرا کہا جاتا ہے یا ان کی نسبت یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ملک کی رائے ان کے ساتھ نہیں تو طبعاً وہ ان کی طرف کھنچ جاتا ہے اور اگر پہلے ان کا مخالف تھا تو اب ہمدرد ہو جاتا ہے پس میں آپ لوگوں