انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 535

انوار العلوم جلد ۸ ۵۳۵ دورہ یورپ خیال سے مجبوراً اس پہلی سودا کرنے والی پالیسی کو ترک کرنا پڑا ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ ریفارم سے جو فائدہ مد نظر تھا وہ نکلتا ہوا نظر نہیں آتا ۔ جیسا کہ سی پی، بنگال اور امپیریل کونسل کے واقعات سے ظاہر ہے۔ اگر گورنمنٹ بار بار پرانی کو نسلوں کو منسوخ کر کے نئے انتخاب کرنے گی تو تب بھی ان لوگوں کا فائدہ ہے کیونکہ اس سے لوگوں کی توجہ اس پارٹی کی طرف اور بھی پھرے گی اور اگر گورنمنٹ کو نسلوں کو موقوف کر کے خود کام کرے گی تب بھی ان کا فائدہ ہے کیونکہ اس صورت میں یہ پارٹی لوگوں سے کہے گی کہ دیکھو ہندوستان کو کوئی اختیارات نہیں دیئے گئے تھے۔ جب کوئی بات گورنمنٹ کی رائے کے خلاف ہوئی اس نے کو نسلوں ہی کو توڑ دیا۔ پس اختیارات صرف دکھاوے کے تھے۔ میرے نزدیک موجودہ حالات میں گورنمنٹ کے لئے اصل میں تو یہی راستہ کھلا ہے کہ ریفارم سکیم کی اصلاح کر کے اس کے بد نتائج سے محفوظ ہو ۔ لیکن اگر یہ قابل عمل نہ سمجھا جائے تو پھر یہ چاہئے کہ جس ذریعہ سے ان لوگوں کو کامیابی ہوئی ہے اسی ذریعہ کو گورنمنٹ بھی اختیار کرے اور وہ ذریعہ جو انہوں نے اختیار کیا ہے یہ ہے کہ وہ پبلک اپیل کرتے ہیں۔ گورنمنٹ کو بھی یہی ذریعہ اختیار کرنا چاہئے اور یہ موقع سب سے بہتر ہے اس وقت ملک کے لوگوں میں بین الا قوام فسادات کی وجہ سے یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ انکو برطانوی گورنمنٹ کی ابھی ضرورت ہے۔ پس اس وقت اگر گورنمنٹ عوام الناس کی طرف توجہ کرے تو وہ ملک کو اسی سڑک پر ڈال سکتی ہے جس سے وہ کامیابی کا منہ دیکھ سکے ۔ مجھے افسوس سے اس سے کہنا پڑتا ہے کہ ما تا ہے کہ گورنمنٹ کچھ مدت سے سوئی ہوئی ہے۔ جس وقت ہندو مسلمانوں کے فسادات شروع ہوئے میں نے پچھلے سال کے نومبر میں پنجاب گورنمنٹ کو توجہ دلائی تھی کہ ملک میں فساد ہمیشہ نہیں رہ سکتا۔ کچھ دن فساد ہو گا پھر لوگ اکٹھے ہو جائیں گے اور مسٹر گاندھی اس موقع کو کبھی نہیں جانے دیں گے اور لوگ خیال کریں گے کہ اصل خیر خواہ ملک کے مسٹر گاندھی ہیں۔ پس گورنمنٹ کو چاہئے کہ اس وقت خود دخل دے کر ہندوستان کے جھگڑے کو ختم کر دے اور میں نے اس کے لئے اپنی جماعت کی خدمات بھی پیش کی تھیں کہ ہم پہلے طرفین کے خیالات معلوم کر کے ابتدائی کام کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہو جاتا تو یقینا لوگوں کے دلوں میں یہ بات بیٹھ جاتی کہ گورنمنٹ ملک کی بچی بہی خواہ ہے اور عوام الناس جو ان جھگڑوں سے دل ہی دل میں تنگ ہیں اس کو ایک احسان سمجھتے مگر گورنمنٹ نے مجھے یہ جواب دیا کہ اگر ہم صلح